انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 577

انوار العلوم جلد ۲ ۵۷۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) بیان کو تو چھوڑ دیں جو اظہار مفہوم بروز کے لئے ضروری ہے اور یہ امر ظاہر کرنا شروع کر دیں کہ وہ میرا نواسہ ہو گا۔ بھلا نواسہ ہونے سے بروز کو کیا تعلق اور اگر بروز کے لئے یہ تعلق ضروری تھا تو فقط نواسہ ہونے کی ایک ناقص نسبت کیوں اختیار کی گئی۔ بیٹا ہونا چاہئے ۔ لیکن اللہ تعالٰی نے اپنی کلام پاک میں آنحضرت ا کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے اگر بروز صحیح نہ ہو تا تو پھر آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ میں اس موعود کے رفیق آنحضرت ﷺ کے صحابہ کیوں ٹھرتے اور نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اس موعود کو حسن کی اولاد بنایا اور کبھی حسین کی اور کبھی عباس کی لیکن آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہو گا۔ اس کے نام کا وارث اس کے خلق کا وارث۔ اس کے علم کا وارث۔ اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا۔ اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا۔ اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔ پس جیسا کہ عملی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہو گئے۔ اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبین کی مہر ٹوٹ گئی کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔ اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمد اللی تک ہی محدود رہی ۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔ کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی تاکس نگوئید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری لیکن اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیر خاتم النبین کی مر توڑنے کے کیونکر دنیا میں آسکتے ہیں۔ غرض خاتم النبین کا لفظ ایک الہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ا نہ ایک دفعہ بلکہ