انوارالعلوم (جلد 2) — Page 576
۵۷۹ حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی* یہ بات ظاہر ہے کہ جیساکہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہوگا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبییّن کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبییّن تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔اور نہ اسؔ سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیتواخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمدہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہا نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خَلق اور خُلق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہوگا اور اس کے اہل بیت میں سے ہوگا* اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا۔یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رو سے اسی نبی میں سے نکلا ہوا ہوگا اور اسی کی روح کا روپ ہوگا اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق بیان کیا یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا اور بروز کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحب بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت کے تعلقات کے لحاظ سے شخص مورد بروز صاحب بروز میں سے نکلا ہوا ہو اور ازل سے باہمی کشش اور باہمی تعلق درمیان ہو۔سو یہ خیال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان معرفت کے سراسر خلاف ہے کہ آپ اس