انوارالعلوم (جلد 2) — Page 555
۵۵۵ بلاتا ہے۔پس اس جگہ جمع سے مراد ایک لے لیا گیا ہے بوجہ اس کی عظمت اور جلال کے۔حالانکہ قرآن کریم میں جب اللہ تعالی ٰکو مخاطب کیا گیا ہے واحد کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔مگر اس آیت میں اس کے خلاف ہے۔اور گو آج کل معزز آدمی کو اردو کی طرح جمع کے لفظ سے پکار لیتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے زمانہ کی زبان اور خود قرآن کریم کےمحاورہ کے یہ خلاف ہے اور صرف اظہار عظمت کے لئے آیا ہے جیسا کہ مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی میں فرمایا کہ اذا الرسل اقتتحالانکہ مراد صرف مسیح موعود ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔اور حوالہ آئے گزر چکا ہے۔پس چونکہ مسیح موعود ؑبوجہ اپنی کئی حیثیتوں کے کئی انبیاء کا مظہر ہے اس لئے بعض افراد کے نام سے حضرت مسیح موعود نے اپنے نفس کو مراد لیا ہے۔اور حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے کلام میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالی ٰقرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے۔اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی۔اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا۔اور پھراس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خوب غور کر کے دیکھ لو۔اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجزمیرے کوئی مصداق نہیں۔پس یہ پیشگوئی سورت تحریم میں خاص میرے لئے ہے۔پس اس تمام امت میں وہ میں ہی ہوں۔میرا نام ہی خدا نے براہین احمدیہ میں پہلے مریم رکھا۔اور بعد اس کے میری کی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی۔اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسیٰ قرار دیا پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔میرے سوا تیرہ سو برس میں کسی نے یہ دعوی ٰنہیں کیا کہ پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا۔اور مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی جس سے میں عیسیٰ بن گیا۔\" حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۰-۳۵۱ حاشیہ) اس حوالہ کو دیکھو کہ ایک ہی جگہ پہلے تو یہ فرمایا ہے کہ اس امت کے بعض افراد کا خدا تعالیٰ نے سورہ تحریم میں مریم نام رکھا ہے۔لیکن پھر فرماتے ہیں کہ اس آیت کا صرف میں ہی مصداق ہوں جس سے یہ بات پایہ ثبوت بن گئی کہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ بعض افراد سے آپ صرف اپنے آپ کو مراد لیتے ہیں۔پس جبکہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے صاف ثابت ہے کہ آپ سے پہلے کوئی ولی اس امت کا نبی نہیں ہوا۔کیونکہ اس کے لئے کثرت اطلاع بر امور غیبیہ شرط ہے جو ان میں نہیں پائی جاتی۔اور اس لئے کہ اس سے امر ختم نبوت *دنیا میں