انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 37

انوار العلوم جلد ۲ ۳۷ منصب خلافت اختیار کرنے کی جو بے اختیار کشش میرے دل میں ہوتی تھی اس کی حقیقت کو بھی اب میں سمجھا ہوں کہ یہ میرے کام میں داخل تھا ورنہ جب تک اللہ تعالیٰ ایک فطرتی جوش اس کے لئے میری روح میں نہ رکھ دیتا میں کیونکر اسے سر انجام دے سکتا تھا۔ اب میں آپ سے مشورہ چاہتا ہوں کہ تبلیغ کیلئے کیا کیا جاوے۔ میں جو کچھ اس کے متعلق ارادہ رکھتا ہوں وہ میں بتا دیتا ہوں ۔ اگر تم سوچو اور غور کرو کہ اس کی تکمیل کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں اور ان تجاویز کو عملی رنگ میں لانے کے واسطے کیا کرنا چاہئے ۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ ہوں جو ہر ایک زبان ہر زبان کے مبلغ ہو جانے والے ہوں جرایم رایان کے سیکھنے والے اور پھر جاننے والے ہوں تا کہ ہم ہر ایک زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں۔ اس کے متعلق میرے بڑے بڑے ارادے اور تجاویز ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے زندگی دی اور توفیق دی اور پھر اپنے فضل سے اسباب عطا کئے اور ان اسباب سے کام لینے کی توفیق ملی تو اپنے وقت پر ظاہر ہو جاویں گے۔ غرض میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔ میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے وہی مجھے اس سے عہدہ برآء ہونے کی توفیق اور طاقت دے گا کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے بہت روپیہ کی ضرورت ہے بہت آدمیوں کی ضرورت ہے مگر اس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی ہے؟ کیا اس سے پہلے ہم اس کے عجائبات قدرت کے تماشے دیکھ نہیں چکے ؟ یہ جگہ جس کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اس کے مامور کے باعث دنیا میں شہرت یافتہ ہے اور جس طرح پر خدا نے اُس سے وعدہ کیا تھا ہزاروں نہیں لاکھوں لاکھ روپیہ اس کے کاموں کی تکمیل کے لئے اُس نے آپ بھیج دیا۔ اُس نے وعدہ کیا تھا ۔ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جن کو ہم خود وحی کریں گے ۔ پس میں جب کہ جانتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہوا ہے یہ اُسی کا کام ہے اور میں نے یہ کام خود اس سے طلب نہیں کیا خدا نے خود دیا ہے تو وہ انہی رجال کو وحی کرے گا جو مسیح موعود علیہ السلام کے وقت وحی کئے جاتے تھے۔ پس میرے دوستو ! روپیہ کے معاملہ میں گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں وہ آپ