انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 36

۳۶ تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اِتنا ہو اِتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پُرانارہا ہے۔غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو اور میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے میری اِن دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔غرض تبلیغ کے کام سے مجھے بڑی دلچسپی ہے۔یہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ سب دنیا ایک مذہب پر جمع نہیں ہو سکتی۔اور یہ بھی سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کو نہیں کر سکے اور کون ہے جو اسے کر سکے یا اس کا نام بھی لے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے۔میرے دل میں تبلیغ کے لئے اتنی تڑپ تھی کہ میں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر۔پس میں اس کے حضور ہی جھکا اور دعائیں کیں اور میرے پاس تھا ہی کیا؟ میں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ دولت، نہ کوئی جماعت ہے، نہ کچھ اور ہے جس سے میں خدمت کر سکوں۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سنا اور آپ ہی سامان کر دیئے اور تمہیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہو جاؤ۔پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چُن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اُس نے مجھے دکھایا۔اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا۔اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے۔کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے وہ میرا ہی کام ہوگا۔اب تم یہ تو سمجھ سکتے ہو کہ میری دلچسپی تبلیغ کے کام سے آج پیدا نہیں ہوئی اس حالت سے پہلے بھی جہاں تک مجھے موقع ملا مختلف رنگوں اور صورتوں میں تبلیغ کی تجویزیں کرتا رہا۔وہ جوش اور دلچسپی جو فطرتاً مجھے اس کام سے تھی اور اس راہ کے