انوارالعلوم (جلد 2) — Page 532
انوار العلوم جلد ۲ ۵۳۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) (۲۳) مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى عام عذاب اور تباہی آتی ہی نہیں جب تک کوئی يَبْعَثَ فِي أُمَّهَا رَسُولًا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِنَا رسول نہ آجائے۔ اس زمانہ میں جیسی عالمگیر تباہی وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا طرح طرح سے آئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اس ظلِمُونَ (القصص: ٢٠) جگہ کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ غدرے ۵ کے وقت کونسا ر سول آیا ہوا تھا فلاں تباہی کے وقت کونسا نبی آیا تھا کیونکہ آنحضرت ال کل عالم کے لئے نبی ہیں۔ اس لئے آپ کی ظلیت میں جو نبی آئے گا ضرور ہے کہ وہ بھی تمام عالم کی طرف آئے۔ پس اس کی تکذیب و مخالفت پر تباہی بھی عالمگیری آنی ضروری ہے۔ مگر آنحضرت ا کے بعد عالمگیر تباہی صرف مسیح موعود کے وقت میں آئی۔ (۳) يَا يَهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا بیہ سب باتیں آپ میں موجود ہیں۔ و مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُنِيرًا (الاحزاب :۳۷۰۳۷) (٢٥) وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ یہ خصوصیت بھی آپ میں موجود ہے ۔ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (٢٩) (٢) إِنَّا لَنَنْصُرُرُ سُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي اللہ تعالٰی نے بڑے زور سے آپ کی تائید فرمائی ۔ جیسا الحيوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ کہ پہلے سے آپ کو خبر دی گئی تھی کہ " دنیا میں ایک (المومن (۵۲) نذیر آیا ۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔" (۲۷) هو هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى اس آیت میں مسیح موعود کی بابت پیشگوئی ہے اور وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔ رسولہ سے آپ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر اکثر (الفتح : ۲۹) مفسرین کا بھی اتفاق ہے ۔ پھر یہ آیت آپ پر بھی الہاما