انوارالعلوم (جلد 2) — Page 531
۵۳۱ (۱۷)اولم یروا انا ناتی الأرض ننقصھا من اطرافھا(الرعد ۴۲) اللہ تعالیٰ دن بدن آپ کی جماعت کو بڑھا رہا ہے اورمخالفین کو کم کر رہا ہے۔بعض کو سلسلہ حقہ میں داخل کر کے اور بعض کو ہلاک کرکے۔(۱۸)وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا(بنی اسرائیل ۱۶) اس زمانہ میں جو عذاب آرہے ہیں وہ اس آیت کے ماتحت ولالت کرتے ہیں کہ کوئی رسول آگیا۔(۱۹) وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ(طہ ۱۳۵) یہ آیت بھی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ کوئی رسول اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آ چکا ہے۔(۲۰)وما اھلکنا من قریہ الا لھا منذرون(الشعرا۲۰۹) (۲۱)فوھب لی ربی حکما و جعلنی من المرسلین(الشعرا ۲۲) آپ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالی نے حکم اور مرسل بناکر بھیجا ہے۔(۲۲) وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا(الفرقان ۲۸) آپ کو بھی اللہ تعالی نے یہ آیت الہام فرمائی۔(۲۳) وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۚ-وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ(القصص۶۰) عام عذاب اور تباہی آتی ہی نہیں جب تک کوئی رسول نہ آجائے۔اس زمانہ میں جیسی عالمگیر تباہی طرح طرح سے آئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ ندرےہ کے وقت کونارسول آیا واقا فلاں تبانی کے وقت کونا نی آیا تھا کیونکہ آنحضرت كل عالم کے لئے نی ہیں۔اس لئے آپ کی اقلیت میں جو نبی آئے گا ضرور ہے کہ وہ بھی تمام عالم کی طرف آئے۔پس اس کی تکذیب و مخالفت پر تبانی بھی عالمگیری آنی ضروری ہے۔مگر آنحضرت کے بعد عالمگیر تباہی صرف مسیح موعود کے وقت میں آئی۔(۲۴) یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرً(الأحزاب ۴۶،۴۷) یہ سب باتیں آپ میں موجود ہیں۔(۲۵)وما ارسلنک الا کافة للناس بشیرا و نذیرا(سبا۲۹) یہ خصوصیت بھی آپ میں موجود ہے۔(۲۶) اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُ(المؤمن ۵۲) اللہ تعالی نے بڑے زور سے آپ کی تائید فرمائی۔جیسا کہ پہلے سے آپ کو خبر دی گئی تھی کہ ” دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدااے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔(۲۷) هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ(الفتح ۲۹) اس آیت میں مسیح موعود کی بابت پیار کی ہے اورسولہ سے آپ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر اکثر مفسرین کا بھی اتفاق ہے۔پھر یہ آیت آپ پر بھی الا نازل ہوئی۔اور آپ کا دعوی ہے کہ میں اس کامصداق ہوں۔اور خدا تعالی نے اسی زمانہ میں آپکے ہاتھ سے ہی حسب وعدہ دین اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ بخشا۔(۲۸) وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ(الحاقہ ۴۵،۴۷) اس آیت کو بھی آپ نے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔(۲۹)و انھم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ أحدا(الجن ۸) اس زمانہ میں بھی لوگوں نے میری سمجھا ہو اتھا۔(۳۰) عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًا(26)اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ(الجن ۲۶،۲۷) (۳۱) وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗۚ-وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ(المأمن ۲۹) اس آیت کے دونوں پہلو آپ کی صداقت کو روزروشن کی طرح ثابت کر رہے ہیں۔اگر آپ کا دعوی نعوذ باللہ جھوٹا ہوتاتو مطابق آیت فعلیہ کذبہ کے صادقوں والی عمر نہ پا سکتے۔اور آپ کی پیشگوئیوں کی صداقت ثابت نہ ہوتی۔لیکن الله تعالی نے آپ کو دعوئے الہام کے بعد تئیس برس سے ڈیڑھ چند سے بھی زیاره رعرصہ عمر دی۔اور آپ کی پیشگوئیوں کو موافقوں اور مخالفوں پر پورا کر کے آپ کی صداقت ثابت کردی۔(۳۲) قالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍۚ-وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى(طہ ۶۲) اس آیت میں اللہ تعالی پر افتراء کرنے والوں کے دونشان بتائے گئے ہیں۔ایک یہ کہ ان کی بیخ کنی کی جاتی ہے۔دوم یہ کہ انہیں ناکام رکھا جاتا ہے ان دونوںمعیاروں کی رو سے آپ کی صداقت ثابت ہے۔