انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 530

۵۳۰ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ( النساء : ۱۶۶) آپ ایسے زمانہ میں آئے جبکہ اگر نہ بھیجے جاتے تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق لوگوں کو اعتراض کاحق تھا۔(7) یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ٘-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(المائدہ ۲۰) (۸) قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(الانعام۱۲) آپ کے منکرین و مخالفین پر بھی اسی طرح تباہیاں ہیں۔(۹) قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةًؕ-قُلِ اللّٰهُ- شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ(الانعام۲۰) آپ کی صداقت بھی اللہ تعالی نے اپنی طرح طرح کی شہادتوں کے ساتھ ثابت کی۔(۱۰) وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(الانعام۲۲) اللہ تعالی نے آپ کو ہر طرح سے کامیابی بخش کر آپ کی صداقت ثابت کی۔(۱۱) وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ(الانعام۴۳) آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالی نے طرح طرح کےمصاب تحط - زلازل بیماریاں بھیجیں۔(۱۲)وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین(الانعام۴۹) آپ کو بھی اپنی قوم موافقین و مخالفین کے حق میں بڑی بڑی تبشیری اور انڈاری خبریں دی گئیں۔(۱۳) ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ(الانعام۱۳۲) اس زمانہ میں جس قدر عالمیگر تباہیاں دنیا میں آئیں۔اگر اس زمانہ میں کسی رسول کا آنانہ تسلیم کیا جائے تواس آیت کی تکذیب لازم آئے گی۔(۱۴) وَ اِنْ كَانَ طَآىٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآىٕفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَاۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(الأعراف ۸۸) اس معیار کے رو سے بھی اللہ تعالی نے آپ کی صداقت ثابت کی۔اور اپنی نصرت کے نشانوں کے ساتھ ظاہر کردیا کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔(۱۵) وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(الأعراف ۱۳۱) آپ کے زمانہ میں جس قدر خشک سالی اور تھانےزور آور حملے کئے وہ کچھ محتاج بیاں نہیں۔(۱۶) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ(الانفال ۲۵) اس اظہر من الشمس نشان سے کوئی چشم بینا انکار نہیں کرسکتی۔