انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 35

انوار العلوم جلد ۲ ۳۵ منصب خلافت وَالْحِكْمَةَ کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن وحدیث کا درس جاری رہے کیونکہ الكتب کے معنی قرآن شریف ہیں ۔ اور الْحِكْمَةَ کے معنی بعض آئمہ نے حدیث کے کئے ہیں ۔ اس طرح يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ کے معنی ہوئے قرآن وحدیث سکھائے عام ترجمہ ہے۔ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ کا کیونکہ تبلیغ کیلئے علم کی ضرورت ہے۔ متقی اور باعمل ہونا اور ہر العزیز ہونا یہ يُزَكِّيهِمْ کے لئے ضروری ہے کیونکہ جو متقی ہے وہی تزکیہ کر سکتا ہے اور جو خود عمل نہ کرے گا اس کی بات پر اور لوگ عمل نہیں کر سکتے اسی طرح جو قوم کا مزگی ہو گا وہ ہر دلعزیز بھی ضرور ہوگا۔ پھر کہو کہ وصیت میں ایک اور بات بھی ہے کہ درگزر سے کام لے۔ میں کہتا ہوں اس کا ذکر بھی اس آیت میں ہے ۔ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ الله تعالیٰ جو الْعَزِيزُ ہے اس کو بھی معز ز کرے گا اور غلبہ دے گا جس کا لازمی نتیجہ درگزر ہوگا کیونکہ یہ ایک طاقت کو چاہتا ہے طاقت ملے تو درگزر کرے۔ پس اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کا ذکر کرنے کے یہی معنی ہیں ۔ پھر یہ بتایا کہ درگزر نَعُوذُ بِاللهِ لغو نہیں بلکہ الْحَكِيمُ کے خیال کے نیچے ہو گا۔ پس یا درکھو کہ حضرت خلیفة المسیح ( خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل ان پر ہوں ) کی وصیت بھی اسی آیت کی تشریح ہے۔ ب جب کہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خود حضرت خلیفہ المسیح نے خلیفہ کے کام پہلے سے بتا دیئے تو اب جدید شرائط کا کسی کو کیا حق ہے؟ گورنمنٹ کی شرائط کے بعد کسی اور کو کوئی حق نہیں ہوتا کہ اپنی خود ساختہ باتیں پیش کرے ۔ اب خلیفہ تو خداوند مقرر کرتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم شرائط پیش کرو۔ خدا سے ڈرو اور ایسی باتوں سے تو بہ کرو۔ یہ ادب سے دور ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے خود خلیفہ کے کام مقرر کر دیتے ہیں اب کوئی نہیں جو ان جو ان میں تبدیلی کر سکے یا ان کے خلاف کچھ اور کہہ سکے پھر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ( خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ان پر ہوں ) بھی وہی باتیں پیش کیں جو اس ۔ آیت میں خدا نے بیان کی تھیں گویا ان کی وصیت اس آیت کا ترجمہ ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اور تشریح کروں ۔ تبلیغ پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے ے ۔ میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔ میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے میں جب دیکھتا