انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 505

انوار العلوم جلد ۲ ۵۰۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) ان کو راہ راست کی طرف رہنمائی کرے۔ اس تمہید کے بعد میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق چند دلائل ذیل میں درج کرتا ہوں۔ (1) اول دلیل - حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے ۔ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کہ پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمَةَ أَحْمَدُ (است: ۷) سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے دوم آیت إِذَا الرُّسُلُ أُقتَتْ ( المرسلات : ۱۲) ا سے ثابت ہے۔ کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ کیونکہ اس آیت میں مسیح موعود کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اور اس کے زمانہ کی نسبت ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ جب رسول وقت مقررہ پر لائے جائیں گے ۔ یعنی ایک ہی وقت میں سب رسولوں کو جمع کر دیا جائے گا اور مسیح موعود کے وجود میں وہ ظاہر ہوں گے۔ اس آیت کو بھی خود حضرت مسیح موعود نے اپنے پر چسپاں کیا ہے۔ پس جس کا نام قرآن کریم رسول رکھتا ہے۔ اس کے نبی اور رسول ہونے میں کیا شک کیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ ہم پہلے سب نبیوں کو اسی بناء پر نبی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام نبی رکھا ہے۔ تو مسیح موعود کے رسول نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں۔ جو دلیل پہلوں کے نبی ہونے کی ہے۔ وہی حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی ہے۔ اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نبی اور رسول تھے۔ تو مسیح موعود بھی نبی تھے اور اگر حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے تو پہلے بزرگ بھی نبی نہ تھے ۔ دونوں کی نبوت پر ایک ہی کتاب شاہد ہے۔ پس اگر پہلوں کی نبوت کے متعلق قرآن کریم کی گواہی قابل اعتبار ہے تو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق بھی اس کی گواہی قابل اعتبار ہے اور قرآن کریم سے بڑھ کر اور کس کتاب کی شہادت قابل قبول ہو سکتی ہے۔ ان دونوں آیات کے سوا دو آیات اور بھی ہیں کہ انہیں بھی حضرت مسیح موعود نے اپنی نسبت بیان فرمایا ہے۔ اور ان میں حضرت مسیح موعود کا نام رسول رکھا گیا۔ اول آیت تو یہ ہے کہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدين كله (الصف: ۱۰) اس آیت کی نسبت اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ مسیح موعود کے لئے ہے۔ اور اس کے زمانہ میں پوری ہوگی۔ اور یہ ان کا قول ہی نہیں بلکہ اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ کیونکہ یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آئی ہے اور تینوں جگہ مسیح موعود کے ذکر کے ساتھ ۔ دو