انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 504

۵۰۴ پائے۔بلکہ آپ کی عزت بڑھانے والی یہ بات ہے کہ آپ کے شاگردوں میں سے ایک ایسالائق ہو گیا جو دوسرے استادوں سے بھی بڑھ گیا۔آنحضرتﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا۔اور آپ ؐکی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمة للّعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ من ذالک) اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ آپ ؐنعوذ باللہ دنیا کیلئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔آپ ان سب دنیا کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے۔اور آپ کے آنے سے اللہ تعالی ٰکے فیضان دنیا کے لئے اور بڑھ گئے نہ کہ کم ہو گئے کیا تم نہیں دیکھتے کہ موسوی سلسلہ کے مسیح نے بلاواسطہ حضرت موسیٰ کے فیضان پایا تھا۔لیکن آنحضرت ﷺکے آخری خلیفہ نے جو کچھ پایا آپ کے فیضان سے پایا۔اور پھر بھی مسیح ناصری سے اپنی تمام شان میں بڑھ گیا۔پس آنحضرت ﷺ کا وجود دنیا کے لئے رحمت ہے۔اور آپؐ کی اتباع سے انسان ہر قسم کے فیوض حاصل کر سکتا ہے۔آپ کا وجود اللہ تعالیٰ کے فیوض کی راہ میں روک نہیں ہؤا بلکہ آپ کی دعاؤں نے اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کو اور بھی جذب کیا ہے اور پہلے اگر اس کے فضلوں کی پھوار پڑتی تھی۔تو اب ایک تیز بارش شروع ہو گئی ہے۔پس جو شخص کہتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔اور آپ نے دنیا کو اس فیضان سے محروم کر دیا۔ایسا شخص رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتا ہے وہ آپ کو اس ٹیلہ کی طرح قرار دیتا ہے جس نے گر کر دریا کا پاٹ بند کردیا۔یا اس بادشاہ کی طرح قرار دیا ہے جس کے ماتحت کوئی زبردست آدمی نہیں، بادشاہوں کی عزت اسی طرح بڑھتی ہے کہ بڑے بڑے سردار ان کی خدمت کرنے پر آمادہ ہوں۔اور شہنشاہ کا رتبه شمار سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے پس دنیا ہمیں لا کھ ملامت کرے۔اور کو تہ اندیش لوگ ہم پربیزار اعتراض کریں۔ہم اس عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتے۔جس میں آنحضرت اﷺکی شان کا اظہار ہے، اور نہ اس عقیدہ کو اختیار کر سکتے ہیں۔جس میں آپ کی ہتک ہوتی ہے۔ہمارا آقا نہایت زبردست طاقتیں رکھتا تھا۔وہ ایسار تبہ رکھتا تھا۔کہ اس کی قوت قدسیہ سے ایک نبی کا پیدا ہو جانا کچھ بھی بعید نہیں۔اور مجھے اس بات میں کچھ شک ہے۔اس نے در حقیقت خاتم النبّین کے کمالات کو سمجھا ہی نہیں وہ اپنی ہوا و ہوس پر رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت کو قربان کر رہا ہے اورلوگوں کے خوش کرنے کے لئے اپنے آقا پر حملہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے۔اور۔