انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 475

: انوار العلوم جلد ۲ ۴۷۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) کے ذریعہ بہت سے انبیاء یہودیوں کے فیصلہ کرتے رہے ہیں۔ اب بتاؤ کہ اگر ایک نبی دو سرے نبی کے ماتحت کام نہیں کر سکتا تو بہت سے انبیاء تو ریت کے ذریعہ فیصلہ کیونکر کرتے رہے۔ ان کا توریت پر عمل پیرا ہونا بتاتا ہے کہ موسیٰ کی شریعت کے وہ پیرو تھے ۔ گو یہ ایک اور بات ہے کہ انہوں نے موسیٰ کے ذریعہ نبوت حاصل نہیں کی۔ پس یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بہت سے نبی حضرت موسیٰ کے ماتحت ان کی امت کی اصلاح پر مقرر تھے خود حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ماتحت کام کرتے تھے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ پہاڑ پر گئے تو ان کو اپنی بجائے خلیفہ مقرر کو گئے ۔ اور جب کچھ فساد ہوا تو آکر ان کو مارنے کے لئے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ افعَصَيْت امدی کیا تو نے میری نافرمانی کی جس سے ثابت ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ماتحت تھے۔ ور نہ حضرت موسیٰ انہیں حکم کیونکر دے سکتے تھے ۔ اگر حضرت موسیٰ کے ماتحت حضرت ہارون نہ تھے ۔ تو ثابت کرو کہ وہ کونسی امت تھی جو ان کی اطاعت کرتی تھی اور پھر وہ اگر حضرت موسیٰ سے آزاد تھے تو وہ ان کو اپنی امت کے لئے خلیفہ کس طرح بنا گئے ۔ اور پھر آنحضرت ا یہ کس طرح فرما سکتے تھے کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَ عِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی پس اس آیت کے وہ معنی کیوں کرتے ہو جس سے خود دوسری آیات اور تاریخ کی تکذیب ہوتی ہو۔ اس آیت کے تو یہ معنی ہیں کہ ہر نبی لوگوں کا مطاع ہوتا ہے۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کریں۔ یہ تو مطلب نہیں کہ وہ کسی کا مطیع نہ ہو۔ ورنہ ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ نبی کو خدا تعالٰی کی اطاعت کرنے کا بھی حکم نہیں۔ کیونکہ الا لِيُطَاع کارتبہ جو اسے مل گیا۔ غرض اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی رسول مطبع نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ ہر ایک رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة ة والسلام والـ میں بھی موجود ہے۔ اور آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے۔ اسے مدار نجات ٹھرایا ہے۔ چنانچہ آپ وحی الہی لَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ تُغْرَقُونَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ اور ” جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے۔ وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے۔ اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھراتا ہے۔ اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے ۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا۔ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے ۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں ؟ ں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی ه اليواقيت والجواهر مؤلفه الامام شعرانی جلد ۲ صفحه ۲۰