انوارالعلوم (جلد 2) — Page 476
۴۷۶ عزت نہیں“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۴) اور نیز فرماتے ہیں: خدا تعالی ٰنے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہےُ فلک یعنی کشتی کے نام سےموسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الہٰی کی یہ عبارت ہے وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدھمیعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح ؑکی کشتی قرار دیا۔اور تمام انسانوں کے لئے ان کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔اور جس کے کان ہوں سنے‘‘( اربعین نمبر چہار م صفحہ ۹۳حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۵) پس ایسے معترضوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا خوف کر کے تدبر اور غور سے کام لیا کریں تا تفسیر بالراۓ کی وعید کے نیچے نہ آجائیں۔اس شبہ کے ازالہ کے ساتھ ہی میں ایک اور شبہ کا ازالہ بھی کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اچھا اگر حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے۔اور قرآن کریم کے فیصلہ کے ماتحت ان کو نبی ہی قرار دینا پڑتا ہے تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ان کا دعویٰ تدریجاً بڑھتا ر ہا ہے۔کیا اس کی نظیر پہلے انبیاء میں مل سکتی ہے۔اگر اس کی نظیر پہلے انبیاء میں نہیں ملتی۔تو پھر اس کی صداقت کا یقین کیونکر آئے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود تدریجاً نبی بنے ہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود اپنے دعوے کی جو تفصیل شروع دعوائےمسیحیت سے بیان کرتے رہے ہیں۔وہ آپ کے نبی ہونے پر شاہد تھی۔میں آپ کا دعوی ٰشروع ابتداء سے ہی نبیوں کا سا تھا۔اگر کوئی تغیر ہوا ہے تو صرف اس بات میں کہ آپ نے ۱۹۰۱ء سے اس نام کو زیا دو وضاحت سے اختیار کیا ہے۔پس تدریج کوئی نہیں۔بلکہ ابتداء سے یکساں حال رہا ہے۔اس کادو سراجواب یہ ہے کہ تدریج منع نہیں۔اور اس پر اعتراض کرناایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائی کہاکرتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم آہستہ آہستہ اترا ہے۔اور یہ پہلے انبیاء کے منہاج کے خلاف بات ہے۔حضرت موسیٰ پر یکدم کتاب نازل ہوئی تھی اسی طرح یہ کتاب بھی یکدم نازل ہونی چاہئےتھی۔چونکہ قرآن کریم کو آہستہ آہستہ نازل کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت ضرورت