انوارالعلوم (جلد 2) — Page 442
انوار العلوم جلد ۲ ۴۴۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) مطابق ضروری ہوں۔ اگر ان میں سے بعض کا حضرت مسیح موعود انکار کر دیں اور کہیں کہ یہ میرے اندر نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نبی بھی نہیں ہیں۔ جو باتیں نبی ہونے کے لئے ضروری ہیں حضرت مسیح موعودان کا دعوی شروع سے آخر تک برابر کرتے رہے ہیں اور اس کے خلاف کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت صاحب نے کہیں لکھا ہو کہ : ا۔ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں دی جاتی۔ ۲- جن امور کی مجھے اطلاع دی جاتی ہے وہ معمولی باتیں ہوتی ہیں نہ تبشیر و انذار کے متعلق۔ - خدا تعالیٰ نے مجھے نبی کے لفظ سے کبھی نہیں پکارا۔ مگر میں یقینا کہتا ہوں کہ یہ بات کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا۔ اور خواہ ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتب ہوں یا پہلے کی۔ کسی میں بھی ان باتوں سے انکار نہیں بلکہ ان باتوں کے پائے جانے کا دعوئی ہے۔ اور نبی اس کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں پائی جائیں۔ میں آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا چاہتا ہوں کہ میری اس تحریر سے کہ بعض انبیاء میں جو خصوصیات ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ دوسرے انبیاء میں بھی پائی جائیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ انعامات نبوت بھی نبیوں سے جدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ انعام کہ ہر نبی اپنے زمانہ کے لوگوں کا مطاع ہو۔ یا یہ کہ اس کے منکر اللہ تعالٰی کی درگاہ سے دور کئے جائیں۔ یہ بائیں۔ یہ انعامات نبوت : نبوت ہیں۔ خصوصیات انبیاء سے نہیں ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ہر ایک شخص جب نبی ہے۔ تو ان انعامات کا مستحق ہو۔ اور شرعی نبی ہونا یا بلا واسطہ نبوت پانا انعامات نبوت میں سے نہیں۔ کیونکہ بعض نبی شریعت نہیں بھی لاتے۔ جو ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ انعام نبوت نہیں ورنہ سب کو ملتا۔ اور بلا واسطہ نبوت پانا اس لئے انعامات نبوت میں سے نہیں ہے کہ انعام کسی شئے کا اس کے حاصل ہونے کے بعد ملتا ہے۔ اور بلا واسطہ نبوت کا پانا یا نہ پانا تو نبوت کے ملنے کے وقت کا کام ہے اس لئے انعام نبوت نہیں کہلا سکتا۔ نبوت کے متعلق اختلافات کا اصل سبب اب میں یہ بات ثابت کر چکا ہوں کہ ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے کتاب تریاق القلوب لکھنے کے بعد اپنے نبی ہونے کے متعلق ایک تبدیلی فرمائی ہے۔ اور یہ کہ جون کے پرچہ ریویو میں جو مضمون ہے وہ تریاق القلوب کی تحریر کا ناسخ ہے اور اس کے بعد میں نے نبی کی تعریف از روئے قرآن کریم و