انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 413

انوار العلوم جلد ۲ ۴۱۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) (۲) عربی و عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت ، پیشگوئی کرنے والا ہو اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے " (مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء است " (۷) ” جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا ۔۔ ایک غلطی کا از ارایش روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ (۲۰۸) اس حوالہ سے ثابت ہے کہ قرآن کریم میں بھی نبی کی وہی تعریف کی گئی ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں اور حضرت مسیح موعود بھی اسی آیت سے استدلال فرماتے ہیں۔ جس سے میں نے استدلال کیا تھا۔ (۸) ” ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں"۔ ۹) یہ( یہ مکالمہ الیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا ۔ یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اسکی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خداتعالی کی طرف میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔۔۔۔۔ اور چونکہ میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو پر خدا کا غیب پر مشتمل ہو ۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔ (تجلیات اللہ صفحہ ۲۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (۴۱۲) اس حوالہ سے بھی صاف ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں (یعنی نبی کی یہی تعریف ہے اور کوئی تعریف نہیں جس کی بناء پر کسی ایسے نبی کی نبوت کا انکار کر دیا جائے جس پر یہ تعریف صادق آتی ہو ) (۱) جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی طور پر بکثرت نازل ہو (۲) غیب پر مشتمل ہو (۳) اسی لئے خدا نے آپ کا نام نبی رکھا اور یہی وہ تعریف ہے جو میں اس سے پہلے نبی کی کر آیا ہوں (1) یعنی کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں ظاہر ہوں (۲) جو اندارد اندار و تبشیر کا پہلو رکھتے ہوں (۳) خدائے تعالی کہ اس کا نام نبی رکھے ۔ حضرت مسیح موعود نے اس جگہ انذار و تبشیر کی جگہ یقینی اور قطعی کے الفاظ رکھے ہیں لیکن ان کا مطلب وہی ہے اس لئے کہ یقینی اور قطعی وحی رہی جو سه بحواله بدرا چون شراء هذا