انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 411

سے کی ہے وہ شرائط نبوت میں داخل نہیں ہیں۔اور ان کے بغیر بھی ایک انسان نبی بن سکتا ہے۔بشرطیکہ اس میں سب شرائط نبوت پائی جائیں اور شرائط نبوت جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں سب کی سب مسیح موعود ؑمیں پائی جاتی ہیں۔اور آپ کے سواامت محمدیہ میں سے ایک شخص بھی آج تک ایسا نہیں گذرا جس نے ان تینوں شرطوں کو اپنے اندر جمع کیا ہو اور وه نبی کہلا سکے۔گو قرآن کریم احادیث نبویہ اور لغت عرب کی صریح شہادت کے بعد اس بات کا خیال کر لینا بالکل آسان ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی نبوت کی وہی تعریف فرمائی ہوگی جو لغت نے بیان کی ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے جس پر احادیث نبی کریمﷺ شاہد ہیں لیکن چونکہ لوگوں کی طبائع مختلف ہیں اور بعض لوگ اس بات کو معلوم کرنا پسند کریں گے کہ حضرت مسیح موعود نے نبی کی کیا تعریف فرمائی ہے اس لئے میں ذیل میں چند حوالہ جات نقل کرتاہوں جن سے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک بھی نبی کی تعریف وہی ہے جو میں اور قرآن کریم و احادیث اور لغت کے رو سے ثابت کر آیا ہوں اور ان شرائط سے آپ نے ایک شرط بھی نہیں بڑھائی اور نہ گھٹائی ہے جو میں لکھ چکا ہوں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: (1) نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔(چشمہ معرفت ،۱۸۰روحانی خزائن جلد ۲۳ صفیه ۱۸۹) (۴) آپ لوگ جس امرکانام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اسکی کثرت کا نام بموجب حکم الہٰی نبوت رکھتا ہوں“۔(تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳) (۳) خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں‘‘( چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۵، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱) (۴)\" جبکہ وہ مکالمہ و مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کے روسے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہ دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“ (الوصیت صفحہ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱) (۵) ’’( اور ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالی کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور