انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 24

۲۴ دیکھا ہے کہ کوئی کام اصلاحِ عالَم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔خلفاء کا کامانبیاء علیہم السلام کے اغراضِ بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے پس جو کام نبی کا ہوگا وہی خلیفہ کا ہوگا۔اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام کھل جائے گا۔میں نے دعا کی تھی کہ میں اس موقع پر کیا کہوں تو اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس آیت کی طرف پھیر دی اور مجھے اسی آیت میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو میرے اغراض اور مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ اس موقع پر چند استدلال پیش کر دوں۔شکر ربّانی برجماعت حقانیمگر اس سے پہلے کہ میں استدلال کو پیش کروں میں خدا تعالیٰ کا شکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کے دیئے جانے کا انبیاء سے وعدہ ٔالٰہی ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر، اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا حرج کر کے احباب آئے ہیں۔میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا وہ بہتر سے بہتر بدلے دے گا کیونکہ وہ اس وعدہ کے موافق آئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا۔اس لئے جب کل میں نے درس میں ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا کہ یہ لوگ ایسے شخص کے لئے آئے ہیں جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ چالباز ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) اور پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے بُلانے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔اس لئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں کیں اور اپنے ربّ سے یہ عرض کیا کہ الٰہی! میں تو غریب ہوں میں اِن لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں حضور! آپ ہی اپنے خزانوں کو کھول دیجئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجئے۔اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی دردِ دل اور بڑے اضطراب سے دعا کی ہو اور وہ قبول نہ ہوئی ہو۔بچہ بھی جب درد سے چِلاتا ہے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ جوش مارتا ہے۔پس جب ایک چھوٹے بچے کے لئے باوجود ایک قلیل اور عارضی تعلق کے اس کے چِلّانے پر چھاتیوں میں دودھ آ جاتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی