انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 23

۲۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم منصب خلافت اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(البقرة ۱۳۰) دعائے ابراہیم ؑاس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک پیشگوئی کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کےرنگ میں ہے وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر مکہ کے وقت کی۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُیہ دعا ایک جامع دعا ہے اس میں اپنی ذرّیت میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی دعا کی۔پھر اِسی دعا میں یہ ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے کیا کام ہوتے ہیں، ان کے آنے کی کیا غرض ہوتی ہے؟ فرمایا الٰہی! ان میں ایک رسول ہو، انہی میں سے ہو۔انبیاء کی بعثت کی غرضوہ رسول جو مبعوث ہو اُس کا کیا کام ہو یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ اس کا پہلا کام یہ ہو کہ وہ تیری آیات ان پرپڑھے۔دوسرا کام یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ اُن کو کتاب سکھائے اور تیسرا کام یہ ہو کہ حکمت سکھائے۔چوتھا کام وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اُن کو پاک کرے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں مبعوث ہونے والے ایک رسول کے لئے دعا کی اور اس دعا ہی میں اُن اغراض کو عرض کیا جو انبیاء کی بعثت سے ہوتی ہیں اور یہ چار کام ہیں۔میں نے غور کر کے