انوارالعلوم (جلد 2) — Page 407
۴۰۵ مطلب ہے کہ دونوں کے امتحان پاس کرنے کے طریقوں میں فرق ہے یا مثلاً یہ کہا جائے کہ زید نے بلا کسی کی سفارش کے نوکری کے لئے درخواست دی تھی اوراسے نوکری مل گئی۔اور بکر فلاں شخص کی سفارش سے نوکر ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید تو نوکر ہو گیا لیکن بکر نہیں ہوا بلکہ یہ مطلب ہے کہ نوکر تو دونوں ہیں لیکن دونوں کے نو کر ہونے کے طریق مختلف ہیں۔مذکورہ بالا سوالات کے جو نتائج میں نے نکالے ہیں وہ کیوں درست ہیں اسی لئے کہ افسر کےلئے توپ خانہ کایا پیادہ فوج کا افسر ہونا شرط نہیں بلکہ افسرہونے کی شرائط اور ہیں۔اور توپ خانہ یاپیاده کا نام لینے سے ہماری مراد صرف ان کی خصوصیات بتانا تھی اور اسی لئے کہ مدرّس کے لئےفارسی یا عربی کا مدرس ہونا شرط نہیں جو لوگوں کے پڑھانے پر مقرر ہو وہ مدرّس ہے خواہ کسی علم کےپڑھانے پر لگا دیا جائے اور کسی کو فارسی یا عربی کامدرّس کہنا صرف اس کی خصومیت بتاتا ہے کہ اسےکیا خصوصیت حاصل ہے نہ یہ کہ وہ مدرّس ہے یا نہیں ہے۔اسی طرح دوسری مثالوں کا حال ہے۔اب نبوت کے مسئلہ کو لو، جس طرح میں نے پہلے مثالیں دیں ہیں۔اسی طرح اب مختلف قسم کی نبوتوں کی مثالیں لو۔کسی کو اگر کہیں کہ یہ صاحب شریعت نبی ہے۔اور ایک دوسرے کو یہ کہیں کہ یہ صاحب شریعت تو نہیں لیکن اس نے نبوت بلا واسطہ حاصل کی ہے۔اور ایک تیسرے کو کہیں کہ یہ نہ صاحب شریعت نبی ہے اور نہ اس نے نبوت بلا واسطہ حاصل کی ہے بلکہ اس نے نبوت کسی اور نبی کے فیض سے حاصل کی ہے تو ان فقرات کے یہ معنی نہیں کہ ان تین آدمیوں میں سے صرف پہلا آدمی نبی ہے یا پہلے دو نبی ہیں اور دوسرا اور تیسرا یا تیسرانبی نہیں۔بلکہ اس کا مطلب بھی ان فقرات کی طرح جو میں اوپر لکھ آیا ہوں یہی ہو گا کہ پہلانبی ایک اور قسم کانبی ہے دوسرا ایک اور قسم کا۔اور تیسرانبی ایک اور قسم کا۔نہ یہ کہ ان تینوں میں سے کوئی ایک نبی ہے ہی نہیں۔اور یہ نتیجہ کیوں درست ہوگا اس لئے کہ نبی کی شرائط میں سے یعنی ان باتوں میں سے جو اگر نہ پائی جائیں تو کوئی شخص نبی ہو ہی نہیں سکتا۔یہ باتیں نہیں ہیں بلکہ شرائط اور ہیں اور چونکہ وہ شرائط ان تینوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے تینوں نبی کہلائیں گے تو ایک شرعی نبی ایک بلا واسطہ نبوت پانے والا نبی۔اور ایک بالواسطہ نبوت پانے والا امتی نبی کہلائے گا۔اس کی مثال ایک اور سمجھ لو کہ انسانوں میں مختلف قومیں ہیں ایک سید ایک مغل ایک پٹھان۔جب ہم کہیں کہ فلاں شخص سید ہے فلاں مغل فلاں پٹھان تو اس کے یہ معنی نہیں کہ سید آدمی ہیں اور مغل۔پٹھان آدمی نہیں بلکہ صرف یہ کہ ایک انسانوں میں سے اس قسم میں شامل ہے جو آنحضرت ﷺ کی اولاد ہونے کی خصوصیت