انوارالعلوم (جلد 2) — Page 403
انوار العلوم جلد ۳ ۲۰۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) کوئی شریعت نہیں لائے ۔ مثلاً یوسف سلیمان ، زکریا یحییٰ علیہم السلام ان کو نبی نہ کہا جاتا۔ یا ناقص نبی ان کا نام رکھا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کا نام بھی نبی ہی رکھتے ہیں اور آنحضرت ا بھی ان کو نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ : "بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے " (بدر نمبر ۹ جلد ۷ ۵ ۱ مارچ ۱۹۰۸ء پھر سارے قرآن کو غور سے پڑھ جاؤ ایک آیت بھی اس میں ایسی نہ ملے گی جس کا یہ مضمون ہو کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جسے بلا واسطہ نبوت ملی ہو۔ پس نبی کے لئے یہ شرط لگائی کہ نبی رہی ہو سکتا ہے جو بلا واسطہ نبی بنا ہو۔ ایک ایسی بات ہے جس کا ہر گز کوئی ثبوت نہیں قرآن کریم میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ ایسا نبی کوئی نہیں گزرا جسے بالواسطہ نبوت ملی ہو یہ بات تو ہم صرف اپنی عقل سے معلوم کرتے ہیں ورنہ قرآن کریم نے صریح الفاظ میں ہرگز کہیں نہیں فرمایا کہ کل نبیوں کو نبوت بلا واسطہ ملی ہے اگر کہیں ہے تو اس آیت کو پیش کرو یہ بات تو ہم صرف اس بناء پر مانتے ہیں کہ چونکہ آنحضرت ا سے پہلے کوئی ایسا نبی نہیں ہوا یا کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جسے خاتم النبین اور خاتم الکتب کہا جاسکے (اور اگر ایسا ہو تا تو پھر قرآن کریم کا نزول ہی کیوں ہوتا) اس لئے پہلے نبیوں کو نبوت براہ راست ہی ملتی ہوگی نہ کسی دوسرے نبی کی اتباع سے۔ اور ضرور بعض انعامات ایسے ہوتے ہوں گے جو پہلے انبیاء یا پہلی کتب کی پیروی سے حاصل نہ ہو سکتے ہوں گے ورنہ جس نبی کی اتباع سے اور جس کتاب پر چل کر انسان نبی بن سکتا ہو اس نبی اور اس کتاب کے بعد کسی اور صاحب شریعت نبی کی ضرورت نہ رہتی اور وہی خاتم النبین کہلاتا اور اس کی کتاب خاتم الکتب کہلانے کی مستحق ہوتی۔ پس پہلے نبیوں اور کتابوں کے بعد اور نبیوں کا مبعوث ہونا اور دیگر کتابوں کا نازل ہونا ثابت کرتا ہے کہ ابھی تک دین ایسا کامل نہ ہوا تھا کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات حاصل کر سکے اور ضرور ہے کہ پہلے انبیاء انعام نبوت براہ راست حاصل کرتے ہوں گے۔ اور یہ قیاس ایسے دلائل پر مبنی ہے کہ اس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ ہمارا قیاس ہے اور قرآن کریم نے کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں فرمایا کہ پہلے کل انبیاء براه راست نبوت حاصل کرتے تھے یا یہ کہ نبی رہی ہو سکتا ہے جو براہ راست نبوت پائے۔ اور عقل صحیح بھی کبھی اس لغو شرط کی اجازت نہیں دیتی کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہ راست نبوت حاصل کرے ۔ جب نبوت ایک شخص کو حاصل ہو گئی تو پھر اس قول کے کیا معنی ہوئے کہ یہ نبی