انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 398

۳۹۸ دیئے ہیں تو وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا۔یا تواختلاف کا الزام حضرت مسیح موعود پردے گایا پہلے احکام کو محکمات قرار دے کر خود غلطی میں پڑے گا۔لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں وقت سے فلاں مسئلہ میں تبدیلی حکم ہوئی ہے تو پھر اس مشکل سے بچ جائے گا۔پس اس مشکل سے بچنے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ حضرت مسیح موعود کا عقیدہ نبوت کے متعلق شروع سے ایک ہی رہا ہے یا اس میں کبھی تبدیلی بھی پیدا ہوئی ہے اور اللہ تعالی ٰکے فضل سے ثابت کیا ہے کہ اس عقیدہ میں ۱۹۰۰ء کے بعد تبدیلی ہوئی ہے اور سب سے آخری کتاب جس میں پہلے عقیدہ کا اظہار کیا گیا تھا۔تریاق القلوب ہے جو ۱۸۹۹ء کی ہے اور جو بعض موانعات کی وجہ سے ۱۹۰۲ء میں شائع ہو سکی۔پس مسئلہ نبوت کے متعلق جب بحث ہو۔تو ہمیں ان تحریرات کو اصل قرار دینا ہو گا۔جو ۱۹۰۱ء سے لے کر وفات تک شائع ہو گئیں اور پہلی تحریرات جو (1) بعد کی تحریرات کے خلاف ہوں۔یا (۲) جن میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہوں کہ ان سے حضرت مسیح موعود کی نبوت میں کوئی نقص ثابت ہو تا ہو۔اور حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ کو ا۱۹۰ء سے ترک کر دیا ہو۔انہیں منسوخ قرار دینا پڑے گا (یعنی وہ تحریرات جو مسئلہ نبوت کے متعلق ہوں۔کیونکہ ان کے متعلق خود حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی میں فیصلہ کر دیا ہے) پہلے سوال پر تو میں بحث کر چکا ہوں۔اب دوسراسوال باقی ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے یا نہیں۔اگر تھے تو آپ کی نبوت کسی قسم کی تھی؟- اس سوال کے حل کرنے کے لئے میں پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نبوت کیا شے ہے؟ کیونکہ اس بیان سے یہ مسئلہ بہت کچھ صاف ہو جائے گا اور کوئی دقت نہ رہ جائے گی۔سواے عزیزو! یاد رکھو کہ نبی نبأ سے نکلا ہے جس کے معنی راغب جو قرآن کریم کی لغات کے معنی بیان کرنے میں نہایت ماہر مانا جاتا ہے یہ بیان کرتا ہے۔کہ نبأ اس خبر کو کہتے ہیں جس سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہو اور جس سے علم حاصل ہو اور جو سچی ہو اور جھوٹ سے بکلی پاک ہو۔اور نبی کے معنی لغت والے یہ لکھتے ہیں کہ جو اللہ تعالی ٰسے خبر دینے والا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی توحید سے خبردار کیا ہو۔اور غیب کی باتیں بتائی ہوں اور اسے کہا ہو کہ تو نبی ہے۔اور اس لفظ میں مبالغہ بھی پایا جاتا ہے کیونکہ یہ نعیل کے وزن پر ہے۔اور نبی وہی ہو سکتا ہے جو کثرت سے خبریں پانے والا اور خبریں دینے والا ہو۔اور چونکہ نبی ایک عربی لفظ ہے اس لئے اس کی تحقیقات کے لئے عربی لغت ہی سند ہو سکتی ہے۔اور جو معنی میں اوپر بتا آیا ہوں اس کے مطابق نبی الله اس کو کہیں گے جو اللہ تعالی ٰکی طرف سے مقرر ہو۔اور اللہ تعالی ٰاس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کرے جو معمولی