انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 399

۳۹۹ واقعات پر ہی مبنی نہ ہوں بلکہ اہم واقعات کی ان میں اطلاع دی گئی ہو۔اور صرف چند خبریں دینے سے ہی کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔بلکہ ضروری ہے کہ کثرت سے اسے امور غیبیہ پر مطلع کیا جائے۔کیونکہ یہ نعیل کے وزن پر ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔یہ وہ تعریف ہے جو لغت کے معنوں کی رو سے ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی اور تعریف عربی زبان کے رو سے نبی کی نہیں۔جس میں یہ بات پائی جائے کہ وہ عظیم الشان واقعات کے متعلق خدا تعالی ٰسے خبرپا کر لوگوں تک پہنچانے اور اس کا نام اللہ تعالی نبی بھی رکھے تو وہ نبی ہو گا۔اللہ تعالی کے نام رکھنے کی شرط اس لئے ہے کہ اس امر کا فیصلہ کہ اخبار غیبیہ جو کسی بندہ کو اللہ تعالیٰ بتائے ان کی اہمیت اور عظمت اور کثرت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے علاوہ ازیں اگر اللہ تعالی ٰکے نام رکھنے کے سوا انسان آپ ہی ایک دوسرے کو نبی قرار دیا کریں۔تو ایک خطرناک نقص اور تباہی کا اندیشہ ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی ٰنے نبیوں کے لئے بعض انعامات اور خصوصیات مقرر فرمائی ہیں۔پس اگر انسان آپ ہی اس بات کا فیصلہ کر لیا کریں کہ کسی پر اس قدر اظہار غیب ہوتا ہے کہ وہ نبی کہلا سکے۔تو بہت سے لوگ چند خوابوں یا چند الہامات کی بناء پر اپنے آپ کو نبی قرار دے کران خصوصیات کے وارث بن جائیں۔اور ایک خطرناک تباہی آ جائے۔مثلا ًیہ کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ (النساء:۶۵) یعنی جو رسول بھی دنیا میں آتا ہے۔اس کی بعثت کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی فرمانبرداری کریں۔اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انبیاء چونکہ اللہ تعالیٰ سے ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں اور کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے ان کا دل ہر ایک قسم کے شک و شبہ سے پاک کر کے ان کو خاص معرفت اور نور عطا ہو تاہے۔اس لئے ان کے اعمال دنیا کے لئے ایک بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔پس جب کوئی نبی دنیا میں بھیجا جائے تو اس وقت کے سب لوگوں کو اس کی اطاعت لازم ہو تی ہے۔کیونکہ وہ الله تعالی ٰتک پہنچانے کا ایک یقینی ذریعہ ہو تا ہے۔اور چونکہ اس کے ساتھ اللہ تعالی ٰکا خاص تعلق ہوتا ہے۔وہ کسی غلطی پر اپنی وفات تک قائم نہیں رکھا جا تاپس اس کی اطاعت سب انسانوں پر واجب ہوتی ہے۔اور اگر نبی کا نام خدا تعالیٰ نہ رکھے تو بہت سے لوگ جن کو چند رؤ یا ہو چکی ہوں۔اپنے آپ کو نبی قرار دے کر دنیا پر اپنے قول کو حجت قرار دے دیں۔اور شریعت کے فہم اور اس کی تفسیر میں اپنے آپ کو قابل اتباع قرار دے کر شریعت میں بہت سی غلطیاں پیداکردیں۔پس چونکہ امور شرعیہ میں پوری اتباع سوائے انبیاء کے جو معاملات شریعت میں حکم دعدل