انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 396

انوار العلوم جلد ۲ ۳۹۶ حقيقة النبوة ( حصہ اول) بعض معاملات جو پہلے پوشیدہ تھے اس وقت کھولے گئے ۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۱۵۵ پر لکھتے ہیں کہ ” پھر جبکہ خدا نے اور اسکے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تیں افضل قرار دیتے ہو " ९९ اس حوالہ سے ثابت ہے کہ جو شخص آپ کی افضلیت بر مسیح کا قائل نہ ہو اس کے خیال کو حضرت مسیح مو موعود شیطانی وسوسہ ظاہر فرماتے ہیں۔ اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا۔ یہ کہہ سکتا ہے کہ جبکہ آپ خود ایک خیال کے مدت تک قائل رہے۔ تو پھر اسی خیال کو اب شیطانی وسوسہ کیوں ظاہر فرماتے ہیں۔ جب تیرہ سال تک آپ کو مسیح سے افضل نہ ماننے ۔ ماننے کے باوجو د انسان حق پر رہ سکتا تھا۔ تو اب کیوں اسے شیطانی وسوسہ ظاہر کیا جاتا ہے سو اس کا صاف جواب یہ ہے کہ افضل تو آپ پہلے بھی تھے ۔ اس وقت تک پورے طور پر بات نہ کھلی تھی۔ اس لئے آپ اس کی تاویل کرتے رہے اور بعد میں جب انکشاف ہوا تو افضلیت کا اظہار فرمایا ۔ اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے انکشاف ہوا تو اب جو اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ شیطانی وسوسہ میں گرفتار ہے اسی طرح حضرت اقدس نے پہلے خود مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدہ ظاہر فرمایا۔ اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے اور جو اس عقیدہ کا ماننے والا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔ تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں پڑ سکتا کہ جب آپ اس عقیدہ کے اس قدر مدت تک قائل رہے تو خدا کے برگزیدہ اور علم رہے اب کیوں یہ عقیدہ شرک ہو گیا ؟ کیا اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ایک معمولی عقیدہ ہے۔ سواس کا جواب میں دیا جائے گا کہ جب تک خدا تعالیٰ نے اس معاملہ کو کھولا نہیں یہ شرک نہ تھا۔ لیکن جب اس نے کھول دیا ۔ تو اب یہ سخت شرک ہو گیا۔ یہی جواب نبوت کے متعلق ہے آپ نبی ابتداء سے تھے لیکن جب تک پورے طور پر انکشاف نہ ہوا آپ اس عقیدہ کو جو لوگوں میں رائج تھا مانتے رہے۔ لیکن بعد میں جب انکشاف ہو گیا تو اس کو بدل دیا ۔ اور اب اس عقیدہ کا ماننا ضروری ہو گیا اور چونکہ خدا کے نزدیک آپ شروع دعوئی سے نبی تھے اس لئے مسیحیت کے دعوے کے ساتھ نبوت بھی لازم و ملزوم تھی اگر کہو کہ ایسی کھلی بات مسیح موعود کو پہلے کیوں نہ معلوم ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح معلوم نہیں ہوئی جس طرح مسیح کی حیات کا مشرکانہ عقیدہ معلوم نہ ہوا۔ اور جس طرح باوجود خدا تعالیٰ کے فرمانے سب نبیوں کے اتفاق یہود و نصاری کے اتفاق کے مسیح پر