انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 382

انوار العلوم جلد ۲ ۳۸۲ حقيق النبوة ( حصہ اول) ہے اور جس کے مقابل میں وہ انبیاء ہوتے ہیں جو بلا واسطہ نبوت پاتے ہیں اور ان کا نام مسیح موعود نے مستقل نبی رکھا ہے۔ اور آپ ان میں سے نہ تھے بلکہ آپ کی نبوت اتباع نبی کریم ا سے تھی۔ نکتہ ۔ میں نے القول الفصل میں لکھا تھا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی امتی نبی نہیں آ سکتا تھا اس لئے کہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان میں وہ قوت قدسیہ نہ تھی جس سے وہ کسی شخص کو نبوت کے درجہ تک پہنچا سکتے اور صرف ہمارے آنحضرت اللہ ہی ایک ایسے انسان کامل گزرے ہیں جو نہ صرف کامل تھے بلکہ مکمل تھے یعنی دوسروں کو کامل بنا سکتے تھے اور چونکہ اب کوئی ضرورت نہ تھی کہ افاضہ نبوت براہ راست ہوتا۔ اس لئے آئندہ کے لئے صرف امتی نبی آسکتا ہے۔ پس امتی نبی کے یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سب انبیاء سے گھٹیا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء سے یا آنحضرت اللہ کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو کیونکہ آنحضرت اللہ کی تربیت کے ماتحت جو شخص پلے اور آپ کے کمالات کو حاصل کرے وہ جس قدر بلند درجہ بھی حاصل کرے ۔ قابل تعجب نہیں کیونکہ آنحضرت اللہ اس شان کو پہنچے ہیں کہ آپ کی شان نبیوں کی نظروں سے بھی پوشیدہ ہے۔ اور آپ کے درجہ کو سمجھنا ہر ایک انسان کا کام نہیں۔ پس آپ کی تربیت کے ماتحت روحانیت میں ترقی حاصل کرنے والا جس درجہ کو بھی پالے۔ قابل تعجب نہیں کیونکہ بڑے استادوں کے شاگرد بڑے ہی ہوا کرتے ہیں اور بڑے بادشاہوں کے وزیر شان بلند ہی رکھتے ہیں جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی" ہے کہ اس امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے۔ اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے" (براہین حصہ تم صفحه (۱۸۴ اسی طرح فرماتے ہیں کہ "مثل موسی موسی سے بڑھ کر اور میل مینی مینی ہے بڑھ کر " ۔ ان دونوں حوالوں ۔ والوں سے ثابت ہے ہے کہ امت محمدیہ میں سے نبی ہونا آنحضرت اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ کہ چونکہ آنحضرت الله موئی سے اسے بڑے تھے ۔ آپ کا مسیح پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑا ہونا چاہئے تھا۔ مذکورہ بالا الهام بھی میرے اس خیال کی تائید کرتا ہے۔ اور ایک نہایت ہی لطیف پیرایہ میں اس میں یہ سب مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ پہلے حصہ میں تو آنحضرت ا کے کمالات کا بیان فرمایا ہے کہ کوئی ایسی برکت جو دنیا میں پائی جاتی ہو اور انسان کو حاصل ہو سکتی ہو ایسی نہیں جو آنحضرت