انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 381

۳۸۶ تھی۔اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالی ٰنے اگر حضرت مسیح موعودؑ کو جزوی نبی اور جزوی رسول کہہ کر نہیں پکارا۔بلکہ رسول اور نبی کہا ہے تو یہ بات کہاں سے نکل آئی کہ آپ حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والے نبی نہیں اور یہی بات کہاں سے نکلی کہ آپ مستقل نبی یعنی بلاواسطہ نبوت پانے والے نہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ نبوت کے لئے ہرگز یہ شرط نہیں کہ اس میں شریعت ساتھ ہو یا ہے کہ بلا واسطہ حاصل ہو اس لئے اللہ تعالی ٰکے کلام میں نبی کے ساتھ حقیقی اور مستقل کالفظ نہیں ہو تا۔اور تم یہ لفظ نہ قرآن کریم میں کسی نبی کی نبوت کے ساتھ دیکھو گے اور نہ دوسرے انبیاء کی و حیوں میں اور نہ احادیث میں۔کیونکہ یہ ایسی خصوصیات ہیں جن کا علم واقعات سے ہوتا ہے اگر ایک شخص کو خداتعالی نبی کہہ کر پکارتا ہے۔رسول کہہ کر پکارتا ہے پھر اسے مامور فرماتا ہے۔اصلاح مفاسد کا کام اس سے لیتا ہے تو وہ نبی ہو جاتا ہے۔اب اگر اس پر ایسی وحی نازل ہو جائے جس میں احکام شریعت ہوں تو خود پتہ لگ جائے گا کہ یہ صاحب شریعت نبی ہے اور ایسے نبی کا نام حضرت مسیح موعود ؑنے حقیقی نبی رکھا ہے۔اسی طرح اگر اس نبی کو بلا واسطہ نبوت ملی ہے اور کسی کی اتباع سے نہیں ملی تو صاف پتہ لگ جائے گا کہ یہ بھی مستقل ہے۔اور اگر نہ شریعت ملے اور نہ بلا اتباع أحد من الأنبياء اسے نبوت ملے تو پنہ لگے گا کہ اس نبی کے لفظ سے نبی امتی مراد ہے چنانچہ حضرت صاحب کے الہامات میں اشار ۃ ًان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔آپ کے صاحب شریعت نبی نہ ہونے کے متعلق علاوہ اس بین واقعہ کے کہ آپ کوئی شریعت نہیں لائے یہ الہام دلالت کرتا ہے کہ الخير كله فی القراٰن پس جبکہ سب خیر قرآن کریم میں ہے تو ثابت ہوا کہ اس وقت کوئی نئی شریعت نہیں ہوگی بلکہ قرآن کریم ہی پر عمل کرنا ہر ایک کا فرض ہو گا اسی طرح حضرت مسیح موعود کایہ الہام کہ کل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم فتبارک من علم و تعلم یعنی سب کی سب برکات آنحضرتﷺا سے ہیں پس بابرکت ہے استاد بھی اور شاگرد بھی۔اس الہام میں اپنے اصل مضمون کی طرف اشارہ کے علاوہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑکو جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کی شاگردی سے ملا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بلا واسطہ ثبوت پانے والے نہ تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت ﷺ کا شاگرد قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا۔انہیؐ سے سیکھا۔ہیں آپ کی نبوت بالواسطہ نبوت تھی جس کے پانے والے کا نام حضرت صاحب نے امتی نبی رکھا