انوارالعلوم (جلد 2) — Page 379
انوار العلوم جلد ۲ 674 حقيقة النبوة ( حصہ اول) جواب دینا چاہئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے رسالہ "القول الفصل " کو اس نیت سے نہیں پڑھا گیا کہ اس میں اگر کوئی صداقت ہے تو اسے قبول کیا جاوے بلکہ صرف اس نیت سے دیکھا گیا ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ اور جب انسان ایک چیز کو پہلے ہی غلط سمجھ لیتا ہے تو اس کالازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اس کا پورا نہم حاصل نہیں ہوتا۔ اور ٹھو کر کھاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو بھی ایسی غلطی لگی۔ آپ نے پہلے ہی "القول الفصل " کی سب باتیں غلط تصور کر لیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو اس پر پورے غور کا موقع نہ ملا۔ مگر افسوس کہ آپ نے اس رسالہ کے بہت سے مطالب کو غلط سمجھا۔ اور بہت جلد ان نتائج پر پہنچ گئے ۔ جن : جن پر پہنچنا درست نہ تھا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں کہ نہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ اور نہ حضرت مسیح موعود نے ایسا لکھا ہے کہ آپ کو پہلے اللہ تعالیٰ نے جزوی نبی قرار دیا۔ بعد میں نبی بلکہ حضرت صاحب تو اسی جگہ لکھتے ہیں کہ میں تیس برس کی وحی کا کیونکر انکار کر سکتا ہوں جس سے ثابت ہے کہ وحی الہی ہمیشہ آپ کو نبی ظاہر کرتی رہی ہے۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود نے اس اختلاف کو حضرت مسیح کی حیات و وفات کے اختلاف سے تشبیہ دی ہے۔ اور براہین میں جب آپ نے حیات مسیح کا اعلان کیا تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ اس وقت تک مسیح زندہ تھا بلکہ یہ وجہ تھی کہ گو ایسے الہام ہو چکے تھے ۔ جن سے اس کی وفات ثابت ہوتی تھی۔ لیکن آپ نے عام عقیدہ کو ترک کرنا پسند نہ کیا جب تک بار بار کے الہامات سے آپ کو اس طرف متوجہ نہ کیا گیا۔ اسی طرح اور بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود کو جن الہامات میں نبی کہا جاتا تھا۔ آپ ان کو محد ثیت اور مجددیت کی طرف منتقل کر دیتے تھے۔ اور انبیاء کی احتیاط سے کام لے کر آپ نے اس وقت تک اپنے آپ کو کسی نبی سے افضل نہیں کہا۔ جب تک بار بار کی و بار بار کی وحی نے آپ کو عام عقیدہ سے ہٹا نہ دیا ۔ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے۔ اور خدا کے بزرگ مقتربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جز کی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالی کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس ا ح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی" (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۳ - ۱۵۴ ) پس خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو بدلا نہیں اور آپ جزوی نبی سے پورے نبی نہیں بنائے گئے۔ بلکہ بار بار کی وحی میں چونکہ آپ کو نبی کہہ کر پکارا گیا اس لئے آپ کو علم ہو گیا کہ میں نبی ہوں (گو