انوارالعلوم (جلد 2) — Page 377
۳۷۔عقیدہ کو حضرت مسیح موعو دؑنے بدل دیا۔چند اعتراض بھی کئے ہیں۔جن کو میں ذیل میں درج کر کے ان کے جواب بھی لکھ دیتا ہوں: ا- صفحہ ۶،۷ پر میری ایک عبارت نقل کر کے جی میں میں نے لکھا ہے \" حضرت مسیح موعودؑنے فیصلہ کردیا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے اپنا عقیدہ نبوت کے متعلق لکھا ہے۔بعد کی وحی نے اس سے آپ کو بدلادیا‘‘ آپ تین نتیجےنکالتے ہیں۔(1) میاں صاحب کے اعتقاد میں حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ تک ناقص اور جزوی نبوت تھی۔(۲) میاں صاحب کو علم ہے کہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد کوئی وحی حضرت مسیح موعودؑ پر نازل ہوئی۔جس میں آپ کو یہ بتایا گیا کہ آپ اپ جزوی نبی نہیں رہے۔(۳) ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء تک اور اس سے پہلے کی کسی کتاب کی کوئی عبارت مسئلہ نبوت کے متعلق حجت نہیں پکڑی جاسکتی۔بلکہ اس مسئلہ میں صرف ۲۵ راکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد کی تحریر یں قابل سند ہیں۔نتیجہ نمبر ۱ جواب تو یہ ہے کہ یہ نتیجہ آپ نے اپنے پاس سے ہی نکال لیا ہے۔میرے الفاظ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔میں تو لکھتا ہوں کہ بعد کی وحی نے آپ کو اس سے بدلا دیا۔اور آپ میری طرف یہ قول کہ پہلے اور قسم کی نبوت تھی۔اور بعد میں اور قسم کی نبوت ہوئی۔منسوب کرتے ہیں۔حالانکہ دونوں قولوں میں زمین و آسمان کافرق ہے۔میں نے تو یہ لکھا ہے کہ پہلے حضرت صاحب اپنی نسبت اور خیال رکھتے تھے۔بعد میں آپ کو یہ عقیدہ بدلنا پڑا کیونکہ اللہ تعالی کی متواتر وحی نے اس کے خلاف ظاہر کیا۔پس آپ جیسے نبی پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔نبوت میں کوئی تغیر نہیں آیا۔ہاں آپ کے اپنے خیال میں تبدیلی پیدا ہوئی۔اللہ تعالی ٰنے جن الفاظ سے آپ کو پہلے یاد فرمایا تھا۔انہی الفاظ میں بعد میں یاد فرمایا۔پہلے تو آپ عام عقیدہ کے مطابق اس کی اور تاویل کرتے رہے۔لیکن بعد میں اس تاویل میں تبدیلی کرنی پڑی۔کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے اپنے رسالہ میں حقیۃ الوحی کا ایک لمباحوالہ نقل کر دیا تھا۔اور اس سے صاف الفاظ میں نتیجہ نکالا تھا۔پھر بھی آپ اس غلط فہمی کا شکار رہے۔مکرم مولوی صاحب !حضرت مسیح موعودنے تو معترض کے جواب میں صاف فرمایا ہے کہ یہ اختلاف و یساہی ہے جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں لکھاتھا کہ مسیح زندہ ہے۔حالانکہ مجھے