انوارالعلوم (جلد 2) — Page 374
۳۴ اس عبارت میں حضرت اقدس نے مسئلہ فضیلت کے متعلق اپنے عقیدہ کے زمانہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔جن میں سے پہلے زمانہ کی آخری حد کو لفظ \"جب تک ظاہر کرتا ہے۔اور دوسرے زمانہ کی ابتدائی حد کو لفظ ”جب“۔ان دونوں زبانوں کے درمیان کوئی تیسرا زمانہ نہیں ہے۔پہلے زمانہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں بھی اپنے آپ کو سب سے افضل یا اس کےبرابر شان کا ظاہر نہیں کیا۔اور اس تمام زمانہ میں ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ یہ مجھ سے افضل ہے۔اور دوسرے زمانہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں کبھی مسیح کو اپنے سے افضل یا برابر نہیں کہابلکہ اس زمانہ میں ہمیشہ اپنے آپ کو افضل بتایا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی ٰحگايه عن عيسی فرماتا ہے۔و کنت عليهم شهيدا مادمت فیهم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم الي عليهم (المائده :۱۸۸) اس آیت میں مسیح کا یہ بیان مذ کور ہے کہ مجھ پر دو زمانے آئے جن میں سے پہلے زمانہ کی آخری حد اور دوسرے زمانہ کی ابتدائی حد میری وفات ہے اور ان دو زمانوں میں سے پہلے زمانہ میں کبھی میں لوگوں سے الگ نہیں ہوا۔ہمیشہ لوگوں کے درمیان موجود رہا اور دوسرے زمانہ میں یعنی توفّی کے بعد میں کبھی لوگوں میں نہیں آیا اور ہمیشہ ان سے الگ رہا۔اور اس عرصہ میں میں ان میں کبھی نہیں رہا۔غرض مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں بھی حضرت اقدس نے مسیح کو اپنے آپ سے افضل فرمایا ہے اس سے پہلے کبھی اپنے آپ کو اس سے افضل نہیں بتایا۔اور جہاں کہیں بھی حضرت اقدس نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل بتایا ہے اس کے بعد کبھی بھی مسیح کو اپنے آپ سے افضل نہیں بتایا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ تریاق القلوب میں حضرت اقدسؑ نے صاف لفظوں میں مسیح کو اپنے آپ سے افضل قرار دیا ہے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت اقدس کی تریاق القلوب سے پہلے کی کوئی ایسی تقریر یا تحریر نہیں ہو سکتی جس میں حضور نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا ہو۔پس دافع البلاء اور کشتی نوح اس سے بعد کی ہیں۔اسی طرح دافع البلاء اور کشتی نوح میں فرمایا ہے کہ میں مسیح سے افضل ہوں پس ان سے بعد کی کوئی تحریر یا تقریر حضرت اقدس کی ایسی نہیں ہو سکتی۔جس میں حضور نے مسیح کو اپنے آپ سے افضل بتایا ہو۔پس ثابت ہوا کہ تریاق القلوب ان دونوں سے پہلے کی ہے نہ کہ بعد کی’’ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے‘‘