انوارالعلوم (جلد 2) — Page 360
انوار العلوم جلد ۲ ۳۶۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) آپ نے تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے میں صرف جزئی فضیلت رکھتا ہوں اور بعد میں فرمایا کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو منسوخ نہیں کیا گیا وہ ایک دفعہ سائل کے سوال کو پڑھ لیں کیونکہ جواب سائل کے سوال کے مطابق ہوتا ہے سائل نے حضرت مسیح موعود سے یہ سوال کیا ہے کہ آپ نے تریاق القلوب میں کچھ اور آ میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور پس اگر ان دونوں کتب میں کوئی اختلاف نہ تھا تو حضرت مسیح موعود کبھی تناقض کے اعتراض کو قبول کر کے جواب نہ دیتے اور جبکہ اس اعتراض کو آپ نے قبول کیا ہے اور اس کا جواب دیا ہے تو کسی کا حق نہیں کہ کہے کہ آپ کا عقیدہ صرف براہین کے وقت اور تھا۔ ایسا کہنا مسیح موعود کی ہتک ہے کیونکہ یہ داناؤں کا کام نہیں کہ سوال کچھ اور کیا جائے اور جواب کچھ اور دیا جائے ۔ سوال کرنے والا تو کہتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں اور ریویو میں کچھ اور ۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود اس کے جواب میں براہین کے زمانہ کے خیالات کا ازالہ شروع کر دیں۔ وہ شخص جو کل دنیا کی ہدایت کے لئے آیا تھا اس کی نسبت ایسی لغو بات کا منسوب کرنا کیسا ظلم ہے وہ جو دنیا کو عقل سکھانے کے لئے آیا۔ وہ جو علوم روحانی کے خزانے لٹانے آیا ۔ وہ جو دانائی کی کان تھا اور جاہلوں کو دانا بنانے والا تھا کیا اس کی نسبت یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اس سے پوچھتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں اور ریویو میں کچھ اور۔ تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ ہاں براہین کے زمانہ میں میرا یہ خیال تھا بعد میں نہ رہا۔ اس جواب کو پڑھ کر تو ایک بچہ بھی کہئے گا کہ آپ سے تو تریاق القلوب اور پریویو کے اختلاف کی نسبت سوال کیا تھا آپ براہین کے زمانہ یا کسی اور پچھلے زمانہ کا ذکر کرنے لگے ۔ کیا اگر کسی صحیح الدماغ انسان سے یہ سوال کیا جائے کہ پرسوں آپ نے فلاں بات یوں بیان فرمائی تھی اور کل اس کے خلاف بیان فرمائی یہ کیا بات ہے تو وہ اس کو یہ جو اب دے سکتا ہے کہ ہاں پچھلے سال میرا یہی خیال تھا لیکن بعد میں بدل گیا۔ کیا وہ یہ نہ پوچھے گا کہ میں کل اور پرسوں کے متعلق سوال کرتا ہوں آپ پچھلے سال کا ذکر کرتے ہیں اور کیا ایسا جواب دینے والا عقلمند کہلا سکتا ہے ؟ پس اس کلام سے بچو جس سے تم مسیح موعود پر نعوذ باللہ بے وقوفی کا الزام لگاتے ہو ، مسیح موعود خدائے تعالیٰ کا چنا ہوا تھا اور اس کا برگزیدہ تھا اس کی باتیں دانائی سے پر ہوتی تھیں۔ پس اس کا جواب سوال کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اور جبکہ تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں صریح اختلاف ہے تو اس کا جواب کسی پہلے وقت کی طرف کیونکر منسوب ہو سکتا ہے غرض کہ یہ