انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 338

انوار العلوم جلد ۲ ۳۳۸ اللہ تعالی کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے کہا کہ حضرت میاں صاحب نے کوئی درخواست گورنمنٹ میں بھیجی تھی کہ ان کو خلیفہ المسلمین بنایا جاوے۔ لیکن گورنمنٹ نے جواب دیا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔ اور جواب کی نقل لاہوری پارٹی نے لی ہے " ۱۹۱۵-۱-۲۵ خاکسار محمد حسین گرداور ९९ - اس کے ساتھ ہی شیخ عبد العزیز صاحب مدرس ہائی سکول نے بیان کیا کہ ان سے شیخ فقیر اللہ نے جو لاہو ر شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر کے ملازم ہیں یہ واقعہ یوں بیان کیا۔ چنانچہ ان سے بھی میں نے ایک تحریر لے لی جو ذیل میں درج ہے۔ " مجھے بھی کل مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۱۵ء کو فقیر اللہ ملازم شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا ہے کہ مجھے شیخ رحمت اللہ صاحب نے سنایا ہے کہ ایک درخواست حضرت میاں صاحب نے گورنمنٹ کے پیش کی ہے کہ مجھے خلیفہ المسلمین بنا دیا جاوے۔ مجھے ان کی درخواست کے اصل مضمون کے متعلق تو پتہ نہیں ہاں گورنمنٹ کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس سے میاں صاحب کی خلیفہ المسلمین والی خواہش کا پتہ چلتا ہے ۔ " خاکسار عبد العزیز از قادیان- ان دونوں شہادتوں سے خوب وضاحت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اس خبر کی اصل کچھ ضرور ہے۔ اور چند ایسے لوگ جن کی تعیین کی ہمیں ضرورت نہیں اس جھوٹ کو پھیلا کر مبائعین کو بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نادان نہیں خیال کرتے کہ جھوٹ سے کبھی فتح نہیں ہوتی ہے اس جھوٹی خبر کے مشہور کرنے والوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ کہتا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اللہ تعالیٰ کی جھوٹوں پر لعنت ہو ۔ اے نادانو ! کیا تم نے خدائے تعالیٰ کو ایسا سمجھا ہے کہ وہ شریر اور مفسد کو سزا دیئے بغیر چھوڑ دے گا اور جھوٹے اپنے جھوٹ میں کامیاب ہو جائیں گے اگر تم نے ایسا خیال کیا ہے تو تم نے سخت دھوکا کھایا ہے اور اس کام کی جرات کی ہے جس کی جرأت اگر نہ کرتے تو اچھا ہوتا۔ سو میں اس جھوٹ کی علی الاعلان تردید کرتا ہوں۔ مجھے کسی گورنمنٹ کے خطاب کی ضرورت نہیں ۔ میرے لئے وہ خطاب بس ہے جو اللہ تعالٰی نے دیا ہے دنیا کی بادشاہت سے بدرجہا بڑھ کر میں اس انعام کو سمجھتا ہوں جو اس نے مجھے عطا فرمایا ہے اور ان تمام خطابات سے جو کوئی دنیادی گورنمنٹ مجھے دے سکتی ہے مسیح موعود کی غلامی کو اعلیٰ خیال کرتا ہوں۔ پس تم اپنے نفس پر میرا قیاس نہ کرو میرے لئے وہ عزت بیس ہے جو میرے مولیٰ نے مجھے عنایت فرمائی ہے۔ اور میں تو دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بادشاہ کو بھی وہ عزت کا خطاب عطا فرمائے یعنی احمد ی ہونے کا جو اس نے ہمیں عنایت فرمایا ہے تا جس طرح وہ روئے زمین کے طاقتور بادشاہوں میں سے ہیں آسمان پر