انوارالعلوم (جلد 2) — Page 339
انورالعلوم جلد۲ ۳۳۹ اللہ تعالیٰ کی مدد صادقوں کے ساتھ ہے بھی خدائے تعالی ٰکے پیارے بندوں میں شامل ہوں اور جس طرح زمین کی بادشاہت ان کو عطا کی گئی ہے آسمان کی بادشاہت کے بھی وارث ہوں۔آمین۔پس تم مجھ پر الزام لگا کر اپنے نفس کے پردے چاک مت کرو۔اور اگر اس بیان میں کچھ صداقت ہے جو اندر ہی اندر مشہور کیا جاتا ہے تو مرد میدان بن کر اسے شائع کرو اور اگر تمہاراالزام درست ہے تو گورنمنٹ کاوہ جواب جس کی تم نے نقل لی ہے شائع کرو تا جھوٹ اور کھل جائے۔ورنہ اس دن سے ڈرو جس دن یہ فریب اور مکر کام نہ آئیں گے اور اس قادر خدا کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔جو بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے۔مجھے اور دوسرے الزامات کی طرح اس الزام کے دور کرنے کی بھی ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ اس الزام کے ثابت ہونے سے مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہے۔کیونکہ مسیح موعودؑجو دین کا بادشاہ تھا اس کے کسی خلیفہ کا یہ لالچ کرنا کہ گورنمنٹ مجھے تسلیم کروائے اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا اس کو خدا کی طاقت پر یقین نہیں کہ وہ اب اپنے کام کو گورنمنٹ سے کروانا چاہتا ہے۔اس لئے مجھے اس اعلان کے ذریعہ سے اس کی تردید کرنی پڑی۔ٍپس اگر میرے مخالفین میں کچھ بھی شرم و حیا ہے تو وہ مرد میدان بنیں اور اپنے بیان کو شائع کریں اور اس کا ثبوت دیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کون حق پرہے اور کس کی بنیاد جھوٹ پرہے۔میں یہ مضمون لکھ چکا تھا کہ شیخ عبدالرحمٰن صاحب بی۔اے بدرس ہائی سکول قادیان نے یہ مضمون سن کر فرمایا کہ میں نے بھی یہ بات خود ڈاکٹر سید حسین شاہ صاحب کے منہ سے سنی ہے اور انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر لکھ دی۔اب ڈاکٹر صاحب سے امید ہے کہ وہ اپنے بیان کی صداقت میں ثبوت پیش کر کے دنیا پر ثابت کریں گے کہ ان کو خلاف بیانی کی عادت نہیں۔’’بسم الله الرحمن الرحیم میں اس امر کا حلفیہ گواہ ہوں کہ ایام جلسہ دسمبر میں ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب اسسٹنٹ سرجن لاہور نے مجھے کہا کہ (حضرت) میاں صاحب نے لفٹنٹ گورزپنجاب کو اس امرکی چٹھی کیسی ہے کہ آپ کو شش فرما دیں کہ مجھے خلیفہ تسلیم کرلیا جاوے۔اس پرگورنر صاحب موصوف نے صاف انکار کر کے جواب دیا کہ ہم مذہبی امور میں دست اندازی نہیں کر سکتے۔۔۔کیاایسی کو ششوں سے الہٰی کام ہؤا کرتے ہیں میں نے کہاکہ مجھے اس امر کاعلم نہیں ہے مگر ایسی چٹھی کا کیو کر علم ہوا اس پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہم نے بھی کسی طرح پتہ معلوم کر لیا۔