انوارالعلوم (جلد 2) — Page 311
انوار العلوم جلد ۲ ٣١١٠ القول الفصل پہلے کا کوئی کام کرے وہ اس کا خلیفہ ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا جس قدر صحابہ اشاعت اسلام میں لگے ہوئے تھے اور صحابہ سب ہی اس کام میں مشغول تھے خلیفۃ الرسول کہلاتے تھے اگر صرف ایک شخص ہی کہلاتا تھا تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ خلیفہ ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کی آپ لوگ ہنگ کرتے ہیں پھر اگر خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو کسی کا کام کرے تو کیوں خلیفہ اول کی موجودگی میں آپ خلیفہ المسیح نہیں کہلاتے تھے کیونکہ آپ بقول اپنے مسیح موعود کا اصل کام اشاعت اسلام کر رہے تھے اس وقت کیوں آپ کو خلیفہ المسیح کہلانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پھر میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ دکھانا مد نظر نہیں کہ ہمارے امیر کے ماتحت چند خلیفۃ المسیح ہیں تو کیوں خود مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ المسیح نہیں لکھا جا تارہ تو آپ کے نزدیک مسیح موعود کے زیادہ قائم مقام ہیں۔ ناپر باقی رہا سوال مقدمہ کا کہ مقدمہ ہو گا اور عدالتوں تک جانا پڑے گا یہ ایسی دھمکیاں ہیں جو ہمیشہ راست بازوں کو ملتی رہی ہیں آنحضرت ا کے قتل کے لئے کسری نے اپنے آدمی بھیجے۔ حضرت مسیح موعود کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اسی طرح اگر کوئی مجھے بھی عدالت میں بلوائے یا انجمن پر مقدمہ کرے تو کیا حرج ہے۔ ایں ہمہ اندر عاشقی بالائے مہائے وگر ۔ جب میں نے خدا کے لئے اور صرف خدا کے لئے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے اور میں نے کیا لینا تھا خد اتعالیٰ نے یہ کا نے یہ کام میرے سپرد کر دیا ہے تو اب مجھے اس سے کیا خوف ہے کہ انجام کیا ہو گا میں جانتا ہوں کہ انجام بہر حال بہتر ہو گا کیونکہ یہ خدا تعالی کا مجھ سے وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا ہے۔ پس آپ مجھے مقدموں سے کیا ڈراتے ہیں۔ ہمارا مقدمہ خدا کے دربار میں داخل ہے کیا یہ بات بعید ہے کہ پیشتر اس کے کہ دنیا کی حکومتیں ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کریں۔ اَحْكُمُ الْحَاكِمِينَ خود ہمارے مقدمہ کا فیصلہ کر دے ۔ اور گورنمنٹ کے دخل دینے کے بعد کسی ماتحت عدالت کا کیا حق ہے کہ کچھ کر سکے۔ پس اگر خدا تعالی ہی کوئی فیصلہ صادر فرمائے جس سے سب فساد دور ہو کر امن ہو جائے تو دنیا کی حکومتوں نے کیا دخل دیتا ہے۔ - مقدمات سے ان کو ڈرائیں جن کی نظر دنیا کے اسباب پر ہے کوئی دنیا کی حکومت ہمیں اس مقام سے نہیں ہٹا سکتی جس پر خدا ہٹا سکتی جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے کیونکہ دنیاوی حکومتوں کا اثر جسم پر ہے دل پر نہیں دل صرف خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔ اس ٹریکٹ میں کچھ متفرق باتیں بھی ہیں گو ان کا جواب ایسا ضروری نہیں مگر کچھ جواب دے دیتا ہوں۔ خواجہ صاحب اس ٹریکٹ میں اس امر سے بھی ڈراتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے کوئی