انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 312

۳۱۲ خطوط ان کے پاس ایسے بھی ہیں جن کے اظہار سے ہمیں سخت دقت پیش آئے گی۔ان خطوں کی اطلاع مختلف ذرائع سے مجھے پہنچی ہے اور ہر ایک شخص نے یہی بیان کیا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے تھے کہ میں یہ خط صرف آپ کو ہی دکھاتا ہوں اور کسی کو نہیں دکھایا مگر جب دیکھا تو راوی چار پانچ نکلے جس پر مجھے حیرت ہوئی کہ صرف ایک کو سُنا کر اِس قدر لوگوں کو کیونکرعلم ہو گیا۔مگر کوئی تعجب نہیں کہ خواجہ صاحب پہلے ایک سے ذکر کرتے ہوں اور پھر یہ بھول جاتے ہوں کہ میں پیغام بھیج چکا ہوں پھر کوئی اور شخص نظر آ جاتا ہو اور آپ مناسب خیال کرتے ہوں کہ اس کے ہاتھ بھی پیغام بھیج دیں بہرحال ہم خواجہ صاحب کی اِس مہربانی کے ممنون ہیں کہ اُنہوں نے ان خطوط کے مضمون سے بغیر اسے شہرت دینے کے ہمیں مطلع کر دیا۔لیکن میں کہتا ہوں خواجہ صاحب بیشک ان خطوط کو شائع کر دیں مجھے ان کی عبارت پوری طرح یاد نہیں۔نہیں تو میں ابھی لکھ دیتا۔مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی میری نسبت کیا لکھتا ہے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اپنے پیر کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہا اور ہمیشہ اس کا فرمانبردار رہا ہوں اور میں نے اس کے منہ سے بارہا یہ الفاظ سنے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔اس نے مجھے اُس وقت جب کہ میں کسی قدر بیمار تھا اور بیماری بالکل خفیف تھی۔ایسی حالت میں کہ خود اسے کھانسی کے ساتھ خون آتا تھا۔اس طرح پڑھایا ہے کہ وہ مجھے یہ کہہ کر کتاب نہ پڑھنے دیتا تھا کہ آپ بیمار ہیں اور خود اس بیماری میں پڑھتا تھا۔سو خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنے اُس محسن کا وفادار رہا۔ہاں چونکہ انسان کمزور ہے اگر میری کسی کمزوری کی وجہ سے وہ کسی وقت مجھ سے ناراض ہوا ہو تو کیا تعجب ہے۔بخاری میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی جنگ کا ذکر ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو سخت ڈانٹا۔حتیّٰ کہ حضرت ابوبکرؓ کو حضور سے ان الفاظ میں سفارش کرنی پڑی کہ نہیں حضور قصور میرا ہی تھا ۴؎ تو کیا حضرت عمرؓ پر اس واقعہ سے کوئی الزام آ جاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہو گے کہ حضرت عمرؓ سے میری ایک اور مشابہت ہوگئی۔استاد کا شاگرد کو ڈانٹنا بُری بات نہیں شاگرد کا استاد کو گالی دینا بُرا ہے۔کیونکہ ڈانٹنا استاد کا کام تھا اور گالی دینا شاگرد کا کام نہیں ہے۔پس وہ لوگ ایسی کسی تحریر پر کیا خوش ہو سکتے ہیں جو آج بڑے زور سے اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے کبھی خلیفہ اوّل کی مخالفت نہیں کی حالانکہ ان کی دستخطی تحریریں موجود ہیں جن میں اُنہوں نے آپ کو اسلام کا دشمن اور حکومت پسند اورچڑچڑا وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔پھر جس تحریر پر ناز کیا جاتا ہے اگر وہ درست بھی مان لی جائے تو اس کے متعلق میرے پاس بھی سیّد ڈاکٹر صاحب کا خط موجود ہے جس سے اصل معاملہ پر روشنی