انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 310

۳۱۰ الوصیت میں نہایت وضاحت سے خلافت کا ذکر ہے۔چنانچہ قدرتِ ثانیہ کے نام سے آپ نے خلافت کا مسئلہ ایسی وضاحت سے کھولا ہے کہ کسی صداقت پسند انسان کو اس میں شک و شُبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور ابوبکرؓ کی مثال دے کر اس مسئلہ کا پوری طرح فیصلہ کر دیا ہے۔پس آپ کا یہ لکھنا کہ لاہوری الوصیت پیش کرتے ہیں اور قادیانی نہیں کرتے ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔آپ خلافت احمدیہ کو پڑھیں اس میں الوصیت سے خلافت کو باِلوضاحت ثابت کیا گیا ہے اور الوصیت کیا حضرت صاحب کی اور مختلف کتب سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہونا تھا۔چنانچہ پیغامِ صلح، حمامۃ البشریٰ اور ایک لاہور کی تقریر سے جو ۱۹۰۸ء میں آپ نے فرمائی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد خلفاء ہوں گے وہ کل جماعت کے مطاع ہوں گے اور یہ کہ خلفاء کو نبی نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود خلیفہ مقرر کرتا ہے۔میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے آپ کو ایک اور واقعہ بھی یاد دلا دیتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک وقت آپ بھی کسی دوسرے خلیفہ کے منتظر تھے جب حضرت خلیفۃ المسیح گھوڑے سے گر کر سخت بیمار تھے تو اُس وقت مرزا یعقوب بیگ صاحب مجھے گھر سے بُلا کر مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی تک لے گئے تھے وہاں آپ بھی تھے۔مولوی صاحب بھی تھے اور دوسرے آپ کے دوستوں میں سے بھی دو آدمی تھے۔آپ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ حضرت کی حالت خطرناک ہے مجھے خلیفہ ہونے کی خواہش نہیں اور نہ مولوی صاحب کو ہے ہم سب آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے لیکن آپ یہ بات مدنظر رکھیں کہ ہمارے لاہور سے آنے تک خلیفہ کا انتخاب نہ ہو۔آپ نے اپنے آنے تک انتظار کرنے پر جو زور دیا اِس میں آپ کی نیت کیا تھی اِس سے مجھے بحث نہیں مگر میں نے ایک اثر کی بناء پر کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے انتخاب پر بحث کرنا ناجائز ہے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور بات ختم ہوگئی۔اس واقعہ سے آپ کو یاد آگیا ہوگا کہ آپ بھی کسی وقت خلافت کے قائل تھے یا کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے ایسا ظاہر کرنا پسند فرمایا تھا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے مراد بیعت لینے والا خلیفہ تھا کیونکہ اس کے لئے چالیس آدمیوں کی شرط ہے اور آپ کے آنے نہ آنے کا اس پر کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا اور نہ ایسا خلیفہ بنانے کے لئے آپ کو یہ ضرورت تھی کہ آپ کہتے کہ نہ میں خلیفہ بننا چاہتا ہوں اور نہ مولوی محمد علی صاحب کیونکہ ایسے خلیفہ کئی ہو سکتے ہیں۔(آپ ان کا نام خلیفہ رکھتے ہیں میں ان کو خلیفہ نہیں کہتا۔) خواجہ صاحب ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو بیعت لے وہ خلیفۃ المسیح کہلا سکتا ہے بلکہ جو شخص