انوارالعلوم (جلد 2) — Page 309
۳۰۹ آگاہ ہیں اور آپ کی جماعت کے خلیفہ ہیں کیا آپ اپنے بیان کی تصدیق انہی سے حلفی بیان کے ساتھ کروا سکتے ہیں؟ غالباً ان کو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ خبر پہنچی تھی کہ ان کے خیالات بھی اسی قسم کے ہیں تو وہ کیسے ناراض ہوئے تھے بلکہ اس کی بھی ضرورت نہیں کیا آپ خود تریاق القلوب کے مطابق قسم کھا کر ان دونوں امور پر شہادت دے سکتے ہیں کہ خلیفہ اوّل خلافت کے متعلق آپ کے خیالات سے متفق تھے یا یہ کہ ناراض نہ تھے اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی بیعت ایک انعام کے طور پر اور خوشی کی سند کے طور پر تھی یا اس لئے کہ آپ کی مخالفت کی بناء پر آپ کو جماعت سے الگ خیال کر کے آپ سے دوبارہ بیعت لی گئی تھی؟ مجھے اس پر بھی تعجب آتا ہے کہ آپ نے اس بیعت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ مجھ سے اور نواب صاحب سے بھی لی گئی۔اس کے متعلق میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے جھوٹ بولا ہاں آپ کو یاد نہیں رہا۔میں نے ایک خواب دیکھی تھی اور حضرت کو سنائی تھی اِسی کی بناء پر آپ نے عین تقریر میں مجھے اپنی بائیں طرف سے اُٹھا کر دائیں طرف بٹھایا اور پھر اپنی تائید میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ورنہ مجھ سے کوئی بیعت نہیں لی گئی اور نہ نواب صاحب سے۔باقی رہا وصیت کا معاملہ اس پر خلافت احمدیہ میں مفصل بحث موجود ہے آپ پہلے اس کا جواب دے دیں۔پھر اس پر بھی کچھ لکھ دیا جائے گا مگر ضروری ہے کہ جو کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے اس کا جواب پہلے ہو جائے۔اگر آپ کے پاس یہ رسالہ نہ ہو تو آپ مجھے اطلاع دیں میں آپ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔اسی میں تحریر کا معاملہ بھی آچکا ہے مگر میں سوال کرتا ہوں دنیا میں لاکھوں نبی اور مامور گزرے ہیں کیا ان میں سے ایک بھی ایسا ہوا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کی ساری اُمت گمراہ ہو جائے اور ضلالت پر اجماع ہو؟ یہ ناممکن ہے۔پس وہی معنی درست ہیں جو خدا تعالیٰ کے عمل نے کئے کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف اس کا فعل ہو۔خلافت پر ایک خاص رنگ میں بحث میرے لیکچر میں بھی ہے جو سالانہ جلسہ پر ہوا اور اب چھپ رہا ہے۔وہ چھپ جائے گا تو وہ بھی آپ کو بھجوا دیا جائے گا اس کو بھی دیکھ لیں۔میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خواجہ صاحب اپنے مضمون میں باربار لکھتے ہیں کہ ہم الوصیت پیش کرتے ہیں اور ہمارے مقابلہ میں پچھلا طریق عمل پیش کیا جاتا ہے اب بتاؤ کہ کون حق پر ہے۔لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ طریق عمل تو اور دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے ورنہ ہم الوصیت کو چھوڑتے نہیں آپ سے بڑھ کر ہم پیش کرتے ہیں۔ہمارا یقین ہے کہ