انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 308

انوار العلوم جلد ۲ " ۳۰۸ القول الفصل غرض یہ سوال پہلے آدم پر پڑتا ہے۔ پھر جناب محمد رسول اللہ ا پر ۔ پھر ابو بکر پر ۔ پھر علی پر ۔ پھر مہدی پر ۔ جب سارے علوم رسالتمآب سنا گئے تو مہدی کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی بات یہیں ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی۔ اور شیرازہ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعہ ۔ اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں۔ مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے؟ عصر کو کیا؟ پھر شام کو کیا؟ پھر عشاء کو کیا؟ پھر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے؟ پھر حج میں کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھائی تو پھر دوسرے وقت کیا ضرورت ہے ؟ جب ان باتوں میں تکرار ضروری ہے تو اس اجتماع میں بھی تکرار ضروری ہے یہ میں اس لئے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت اتفاق اجتماع اور پر جوش روح کی ضرورت ہے۔" اس تقریر میں آپ نے جو اعتراض خلافت پر کئے ہیں ان کے جواب خود حضرت خلیفہ اول کی زبانی موجود ہیں لیکن میں نے یہ حوالہ جات اس لئے نقل نہیں کئے کہ میں یہ آپ پر حجت قائم کروں کہ حضرت خلیفہ اول نے یوں فرمایا ہے اس لئے آپ بھی مان لیں بلکہ اس لئے نقل کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ حضرت خلیفہ اول کا مذہب شائع ہو چکا ہے۔ اور آخری حوالہ تو خود صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ سے نقل کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کوشش کہ لوگوں پر یہ ثابت کریں کہ حضرت خلیفہ اول کسی مشخصی حکومت کے قائل نہ تھے کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے آپ کی دیانت پر خطر ناک اعتراض آتا ہے۔ پس آپ یہ بیشک اعلان کریں کہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی رائے حجت نہیں لیکن یہ خیال لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کی کوشش نہ کریں کہ حضرت خلیفہ اول آپ کے اس خیال پر آپ سے خوش تھے یا یہ کہ آپ سے ناراض نہ تھے یا یہ کہ خود آپ سے متفق تھے کیونکہ ان خیالات میں سے کسی ایک کا ظاہر کرنا گویا اس بات کا یقینی ثبوت دینا ہے کہ خلافت کے مقابلہ میں حق کی بھی پرواہ نہیں رہی ضرور ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر خود آپ کے وہ دوست جن کی مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں آپ پر دل ہی دل میں ہنستے ہوں گے یا اگر ان کے دل میں ذرا بھی خوف خدا ہو گا تو روتے ہوں گے کہ خواجہ صاحب کو خلاف بیانی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ اگر وہ بیعت جو نہایت سخت ڈانٹ کے بعد آپ سے لی گئی اور اگر وہ بیعت جو حکیم فضل دین کے مکان کے جھگڑے پر آپ کے بعض دوستوں سے لی گئی ایک انعام تھا۔ تو دنیا میں ناراضگی اور خفگی کوئی شئے کا نام نہیں۔ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری بھی ان تمام واقعات سے