انوارالعلوم (جلد 2) — Page 300
انوار العلوم جلد ۲ ۳۰۰ القول الفصل پڑھنے سے روک دیا۔ جیسا کہ خان عجب خان صاحب کے فتوے سے ظاہر ہے اور پھر خاص کعبہ میں غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے کیوں روک دیا ۔ حالانکہ بیت اللہ میں تو ہر فرقہ کے لوگ جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اور ان پر کوئی گرفت نہیں۔ باہر شرارت کرنے والے بیشک شرارت کریں ۔ مگر خود بیت اللہ میں کوئی کسی کو منع نہیں کرتا کہ جماعت میں کیوں شامل ہوتا ہے ۔ ہاں الگ نماز پڑھنے پر بیشک فساد کا خطرہ ہوتا۔ لیکن حضرت صاحب نے وہاں بھی غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں: " حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض آئمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔ اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا۔ اور گھر میں پڑھتے رہے ۔ " افتادی احمد یہ جلد اول ص ۲۱ ) १९ پس ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ غیر احمدیوں سے نماز میں جدائی اختیار کرنے کے فتوے کا اصلی باعث نہ مسئلہ کفر تھا۔ جیسا کہ خود خواجہ صاحب نے اس خیال کی تردید کی ہے اور نہ فساد جھگڑے کا خطرہ تھا۔ جیسا کہ ان کا اپنا بیان ہے گو یہ دونوں وجوہات بھی احمدیوں کے لئے مشکل پیدا کرنے کا باعث ہوں۔ لیکن حرمت کی اصل وجہ کچھ اور ہونی چاہئے۔ اور وہ میں بیان کرتا ہوں۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی کفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اس کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی جب مسیح نازل ہو گا۔ تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔ اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو۔ اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھراتا ہے اور ہر یک تنازعہ کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں " اربعین نمبر الله الله روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۱۷)