انوارالعلوم (جلد 2) — Page 279
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۹ القول الفصل طور پر امتحان پاس کیا۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ نبوت جو آنحضرت ا کی شاگردی میں ملے وہ اس نبوت سے اوٹی ہو جو پرائیویٹ امپیر (Apear) ہونے والے طلباء کو مل چکی ہو ۔ ممکن ہے کہ ایک پرائیویٹ امتحان دینے والا کالج میں امتحان دینے والے سے لائق ہو اور ممکن ہے کہ ایک کالج کا سٹوڈنٹ پرائیویٹ طور پر تیاری کرنے والے سے لیاقت میں اعلیٰ ہو۔ یہی حال یہاں ہے مسیح موعود بعض پہلے نبیوں سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے اور بعض سے کم۔ اور میں نے خود اپنے کانوں سے حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ میں وہی ہوں جس کی نسبت ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ابو بکر سے بڑھ کر ہو گا تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو کئی پہلے عیبوں سے بھی شان میں بڑا ہو گا۔ پس اس کے ظلی نبی ہونے کے صرف یہی معنی ہیں کہ آنحضرت ا دنیا کے تمام انسانوں سے خواہ وہ غیر نبی ہوں یا نبی بڑھ کر ہیں۔ اور اسی مضمون کی طرف حضرت مسیح موعود کا مندرجہ ذیل الهامی شعر اشارہ کرتا ہے۔ برز کمان و و ہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے ( تذکره صفحه ۱۹۰) اس الہامی شعر میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت شان کا ثبوت یہ ہے کہ مسیح الزمان اس کا غلام ہے اب تم جس قدر بھی مسیح موعود کی عزت کرو گے اتنی ہی آنحضرت الی کی عزت ہوگی کیونکہ جس کا غلام بڑا ہو آقا ضرور اس سے بڑا ہو گا۔ اور جتنی شان مسیح موعود کی کم کرو گے اتنی ہی گویا نبی کریم کی شان کم کرو گے کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں آنحضرت ا کی شان کے سمجھنے کے لئے مسیح موعود کی شان کے مطالعہ کی طرف توجہ دلائی ہے پس مسیح موعود کی شان کے بڑھنے سے آنحضرت ﷺ کی شان بڑھتی ہے اور ہم پر خدا تعالی کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کے سمجھنے کی توفیق دی ہے کہ مسیح موعود ویسا ہی مکرم نبی ہے جیسے کہ پہلے نبی تھے اور یہ سب درجہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور غلامی سے ملا ہے۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ نہی۔ ہاں کیا ہی معزز ہے وہ نبی جس کی غلامی میں ایسا عظیم الشان انسان پیدا ہوا۔ اب میں یہ بات بتا چکا ہوں کہ ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح موعود کی ظلی اور بروزی نبوت کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺ کی شاگردی اور اطاعت میں ملی ہے اور پہلے نبیوں کو براہ راست نبوت ملتی تھی۔ اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ آپ کی نبوت کوئی