انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 280

انوار العلوم جلد۲ ۲۸۰ آنر یری خطاب تھا جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں اور جس نبوت سے وہ حقوق حاصل نہیں جو نبیوں کو حاصل ہوتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کو ایک لاکھ روپیہ کوئی بڑا میردےدے۔اور ایک شخص اپنی محنت سے ایک لاکھ روپیہ کمائے۔اب ہم کہیں گے کہ ان میں سے ایک شخص تو خود امیر بنا ہے اور دوسرے کو کسی اور نے امیر بنا دیا ہے لیکن کیا ہمارے اس قول کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ شخص جس نے ایک لاکھ روپیہ کمایا ہے زیادہ امیرہے اس سے جس کو کسی بڑے امیرنے ایک لاکھ روپیہ دے رہا ہے؟ آپس میں یہ دونوں ایک ہی درجہ کے سمجھے جائیں گے۔ہاں فرق صرف یہ ہو گا کہ ہمارے اس قول سے کہ فلاں شخص فلاں دوسرے شخص کے طفیل سے امیر ہو گیا ہے اس کی عظمت ظاہر ہوئی جس نے ایک لاکھ روپے دیا اور ایک شخص کو امیر بنایا۔اسی طرح ہمارے اس قول سے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت ظلی اور بروزی تھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے آنحضرت ﷺسب نبیوں کے سردار تھے وہ نبی ہی نہ تھے بلکہ نبی گر تھے لیکن اس قول سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت تھی یا یہ کہ آپ پروہ احکام نہیں لگتے جو پہلے نبیوں کی نسبت قرآن کریم میں مذکور ہیں خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود کو نبوت آنحضرت ﷺکے خزانہ سے ملی ہے پس اگر کوئی شخص اس نبوت کو پہلی نبوتوں سے ادنیٰ قسم کی نبوت خیال کرتا ہے توده خود آنحضرت ﷺپر اعتراض کرتا ہے کیونکہ جو پانی کے گلاس پر جس میں باہر سے کوئی گند نہیں ملا اعتراض کرتا ہے وہ دراصل کنویں پر اعتراض کرتا ہے اور جو اس موتی کی قیمت جو موتیوں کے کھیت کے اعلیٰ موتیوں میں سے ہے کم لگاتا ہے وہ در حقیقت اس موتیوں کے کھیت کی قیمت کم لگاتا ہے جس سے وہ نکالا گیا اور جو اس لعل کو جو لعلوں کی کان کے اعلیٰ لعلوں میں سے ہے ادنی ٰقرار دیتا ہے وہ در حقیقت اس کان کی حیثیت پر اعتراض کرتا ہے جس سے وہ نکالا گیا ہے۔پس مسیح موعود کی نبوت کو ایسی نبوت قرار دینے والا کہ وہ ایک آنریری عہدہ ہے درحقیقت اس سے وہ حقوق حاصل نہیں ہوتے جو قرآن کریم میں انبیاء کے بیان ہوئے ہیں آنحضرت ﷺ پر حملہ کرتا ہے گو ممکن ہے کہ وہ خود بھی نہ سمجھتا ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں کیا یہ درست نہیں کہ جو شخص کسی شخص کو بادشاہ اس لئے کہتا ہے کہ وہ سید ھاساده انسان ہے( اور ہنسی سے ہمارے ملک میں ایسے آدمی کو بادشاہ کہہ دیتے ہیں) وہ در حقیقت بادشاہوں کی ہتک کرتاہے اور جو شخص کسی شہنشاہ کو اس بناء پر شہنشاہ کہتا ہے کہ اس کے ماتحت مذکورہ بالا خم کے چند بادشاہ ہیں وہ اس شہنشاہ کی ہتک کرتا ہے پس اسی طرح جو شخص ایک نئی قسم کی نبوت (جس میں سارے