انوارالعلوم (جلد 2) — Page 275
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۵ القول الفصل معنوں کی رو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے ۔ اسی طرح مستقل نبی کے معنی خود حضرت مسیح موعود نے یہ کئے ہیں کہ جس کو بلا واسطہ نبوت عطا ہو۔ اور جو کسی اور نبی کی اتباع سے انعام نبوت نہ حاصل کرے۔ ان معنوں کے لحاظ سے ہم حضرت مسیح موعود کو ہرگز مستقل نبی نہیں مانتے۔ اور اگر میں نے یا میرے مریدوں میں سے کسی نے ایسا لکھا ہے تو آپ اس تحریر کو پیش کریں۔ ورنہ آپ غلط الزام لگانے کے الزام کے نیچے آجا ئیں گے۔ انصاف چاہتا ہے کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اس کا ثبوت دیں۔ اگر تحریر نہیں تو کم سے کم آپ ویسی ہی حلف اٹھا جا ئیں جو حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں بیان فرمائی ہے کہ آپ نے مجھ سے ایسا سنا ہے یا کسی میرے مبائع سے ایسا نا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو بلا واسطہ مانتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر ملی تھی اور آپ پر آنحضرت کی اتباع فرض نہ تھی یا یہ کہ آپ کی وفات تک کوئی ایسی گھڑی آپ پر آئی تھی۔ جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے آزاد ہو گئے تھے۔ اگر آپ آپ ایسی حلف میرے متعلق اٹھائیں گے تو میں مقابل پر ویسی ہی حلف اٹھاؤں گا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ پھر خداتعالی فیصلہ کرے گا۔ اور اگر آپ میرے کسی مرید کی نسبت یہ بات ثابت کر دیں اور وہ اس الزام کو مان لے تو میں اس شخص کو اگر تو بہ نہ کرے فورا اپنی بیعت سے خارج کر دوں گا۔ اور اگر وہ اس الزام سے انکار کرے تو میں اسے مجبور کر دوں گا کہ وہ بھی آپ کے مقابلہ میں تریاق القلوب والی قسم کھا جائے۔ اور اس کے بعد میں الہی فیصلہ کا منتظر رہوں گا۔ اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو مجھے پھر افسوس سے کہنا پڑے گا کہ آپ نے ایک نہایت لطیف مشورہ دیا تھا کہ ہمیں احتیاط سے اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا چاہئے لیکن خود احتیاط سے کام نہ لیا۔ خواجہ صاحب نے اپنے اس رسالہ میں میرے ایک خط کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جو میں نے برادرم محمد عثمان صاحب لکھنوی کی طرف لکھا ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ جب خواجہ صاحب کو کسی نے اس خط کے واقعہ سے آگاہ کیا تو آگے یہ نہ بتایا کہ اس خط کی اشاعت پر جب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے یہ اعلان کیا تھا کہ شکر ہے میاں صاحب نے اپنے پہلے عقیدہ سے توبہ کرلی تو ان کے اس اعلان پر میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ جس میں میں نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ بچے ہیں تو میرا وہ پہلا عقیدہ شائع کریں۔ جو اس خط میں ظاہر کردہ عقیدہ کے خلاف ہو یا حلف اٹھا جا ئیں کہ میں نے آپ کی تحریر میں پڑھا نہیں۔ لیکن اپنے کانوں سے یہ بات سنی ہے تو چھ سو روپیہ انعام بھی