انوارالعلوم (جلد 2) — Page 273
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۳ القول الفصل مرزا صاحب مستقل نہی ہونے چاہئیں۔ بات یہ ہے کہ میاں صاحب کی خلافت سے انکار کرنے والے تب ہی فاسق بن سکتے ہیں۔ جب میاں صاحب کو کسی مستقل نبی کا خلیفہ قرار دیا جاوے اور وہ ہو نہیں سکتا۔ جب تک ختم نبوت سے انکار کر کے حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی نہ بنایا جاوے" (صفحہ ۶۵) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ جس احتیاط کی خواجہ صاحب دوسروں کو تاکید کر رہے تھے۔ اس پر خود عامل نہیں ہوئے ۔ اور ہمارے سب اعتقادات کی بنیاد صرف خود غرضی پر رکھ دی۔ گویا ان کے خیال میں جس قدر مسائل میں ہمیں ان سے اختلاف ہے اس کی اصل وجہ اپنی خلافت کو ثابت کرنا ہے اور ہمارے دل میں اس قدر بھی ایمان نہیں کہ خدا تعالی کے بھیجے ہوئے دین کو بھی اپنی خود غرضیوں کی لپیٹ سے باہر رکھ سکیں جو کہ حد درجہ کی شقاوت پر دلالت کرتا ہے مگر مجھے اس بات کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کا جواب دہی دے گا جو دلوں کا حال جانتا ہے۔ کیونکہ دلی خیالات پر جب بحث ہو تو انسان اس موقعہ پر کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس وقت خدا تعالی ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی اسی آیت سے اپنی خلافت کا استدلال کیا کرتے تھے اور بیسیوں بار آپ۔ آپ نے ایسا فرمایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی ان سے ایسا سنا ہو گا۔ اگر نہیں سنا تو بعض غیر مبائعین میں سے آپ کے سامنے ضرور یہ شہادت دے سکتے ہوں گے کہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو اس آیت سے اپنی خلافت کے متعلق استدلال کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس سوال کو چھوڑ کر کہ وہ بھی انسان تھے غلطی کر سکتے تھے۔ لوگوں کا حق ہے کہ وہ آپ سے دریافت کریں کہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے لحاظ سے کیا وہ بھی حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی مانتے تھے کیونکہ بقول آپ کے اس آیت سے انہی خلفاء کی خلافت کی تائید میں استدلال ہو سکتا ہے جو مستقل نبی کے جانشین ہوں اور حضرت خلیفہ اول اس آیت سے اپنی خلافت پر استدلال کیا کرتے تھے ۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت خلیفہ اول بھی ( آپ کے پیش کردہ اصل کے ما تحت) حضرت مسیح موعود کو مستقل نہیں مانتے تھے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ پھر ایک یہ بھی سوال ہے کہ قرآن کریم کی وہ کون سی آیت ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء صرف مستقل نبی کے ہوا کرتے ہیں یہ تو ایک دعوی ہے جو دلیل کا محتاج ہے۔ اگر آپ اس آیت کو پیش کریں تو اس پر غور ہو سکتا ہے ورنہ خود ہی ایک دعوی کرنا اور اس کو دلیل کے طور پر پیش کرنا انصاف سے بعید ہے قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا کہ خلافت صرف حقیقی نبی یا مستقل نبی