انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 257

انوار العلوم جلد ۲ ۲۵۷ برکات خلافت نایه وه اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ( آل عمران: ۳۲) اے رسول ان کو کہہ دے کے کہ میں خدا کا محبوب ہوں اگر تم بھی اس کے محبوب بننا چاہتے ہو تو مجھ سے محبت کرو یہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے بلکہ ایسی روحانیت ترقی کر جاتی ہے کہ خدا کے سوا کسی اور سے کچھ بھی اس کا تعلق نہیں رہتا۔ اور جب تک کوئی انسان اس میں سے ہو کر خدا تعالٰی تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے نہیں پہنچ سکتا۔ غرض کہ یہ احساسات کی ترقی کے درجے ہیں جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بیان فرمائے ہیں ان میں جتنا کوئی انسان بڑھتا جاتا ہے اتناہی بلند ہوتا جاتا ہے۔ آنحضرت لال کی نوبت تو یہاں نوبت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ فرماتے ہیں تَنَامَ کے تَنَامَ عَيْنِي وَلَا يَنَا قلبي (بخارى كتاب المناقب باب : كان النبي صلى الله عليه و سلم تنام عينه و لا ينام : گو میری آنکھیں م قلبه) سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ سو جاتے لیکن پھر اٹھ کر بلا وضوء نماز پڑھ لیتے کیونکہ آپ کو ایسی جلاء قلب عطا ہوئی تھی کہ کہ سوتے ہوئے بھی آپ کے احساسات باطل نہ ہوتے تھے چنانچہ ایک دفعہ جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ تو خراٹے لے رہے تھے پھر بغیر وضوء کے آپ نے نماز شروع کر دی اس پر آپ نے مذکورہ بالا جواب دیا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں ہوتا۔ رسول کریم ال پر ایسی کشف کی حالت طاری رہتی کہ آپ اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نمازیوں کی حالت معلوم کر لیتے تھے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ غرض اس درجہ میں کبھی غفلت کا وقت نہیں آسکتا۔ اس درجہ کا ذکر خدا تعالٰی نے اس طرح فرمایا ہے وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى انْ هُوَ الَّا وَحْيَ يُوحى (النجم : ۴-۵) جو ہمارا بندہ ہو جاتا ہے وہ جو باتیں کرتا ہے وہ ہماری ہی باتیں ہوتی ہیں وہ اور کچھ نہیں کہتا۔ یہ انسانیت کے کمال کا درجہ ہے۔ آ پس میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر احساس پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ احساس کے نہ ہونے کی وجہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو کنچنیاں بھی صدقہ دیتی ہیں خیرات کرتی ہیں لیکن کیا ان کو اجر مل جاتا ہے نہیں اس لئے نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں دیتیں۔ بلکہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح عذاب ٹل جایا کرتا ہے اس لئے وہ ایسا کرتی ہیں۔ اگر ان کے صدقے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے ہوں اور خدا سے ڈر کر وہ ایسا کریں تو وہ زنا ہی کیوں کریں۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ نمازوں کی وجہ سے بڑا نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ سے ہوا ہے جو کہ اس کے دل میں ہے۔ نمازیں تو اور لوگ بھی پڑھتے تھے اب بھی غیر احمدی لوگ نمازیں پڑھتے ہیں لیکن کیا وہ صحابہ بلکہ ایک مؤمن کے درجہ کو