انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 258

۲۵۸ بھی پہنچتے ہیں وہ توکسی مومن کی جوتیوں کاتسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں ہیں بلکہ اکثر ان میں سے بدکار اور گندے ہیں۔پس اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ نیک نہیں ہو سکتے۔یہی ہے کہ ان میں ا حساس نہیں ہے۔تم اپنے اندر احساس پیدا کرو۔تمہارا کوئی کام عادتاً اور رسماً نہ ہو بلکہ سب کا م خدا تعالیٰ کے لئے ہوں۔اس کے متعلق جو تدابیر ہیں وہ بھی میں تمہیں بتائے دیتا ہوں تا کہ تمہیں آسانی ہو جائے لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ کئی لوگوں کو ایک دھوکا لگ جاتا ہے۔غلط فہمی : اور وہ دھوکا یہ ہے کہ ادھر وہ بیعت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور ادھر پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا ان سے اگر پوچھا جائے کہ ایک شخص ایم اے کی ڈگری کتنے سالوں کے بعد حاصل کرتا ہے تو وہ کہیں گے کہ کم از کم ۱۶سال کے بعد۔تو ہم کہتے ہیں کہ جب دنیا کے علم کے لئے ۱۶ سال خرچ کرنے پڑتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ کا علم حاصل کرنے کے لئے ایک دن کے خرچ کرنے کے بعد ہی کیوں پوچھنے لگ جاتے ہو۔پہلے دن ہی جو سکول جا کر کہے کہ میں ایم اے بن جاؤں تو وہ ہرگز نہیں بن سکتا۔ایسے لوگ چند دن نماز پڑھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ ہماری تائید نہیں کرتا۔کیوں ہمارے دشمن ذلیل اور خوار نہیں ہو جاتے۔لیکن کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ اتنی جلدی روحانیت میں کمال پیدا ہو جانے کی خواہش کی جاتی ہے۔کھیت کے تیار ہونے کے لئے مہینوں انتظار کیا جاتا ہے۔ایم اے بننے کے لئے ۱۶سال محنت اور کوشش کی جاتی ہے۔بچہ نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور پھر کون سی ایسی چیز ہے جو بغیر محنت اور کوشش کے اور بغیر وقت کے میسر آسکتی ہے۔ہر ایک بڑی نعمت کے ساتھ کچھ دکھ اور تکالیف بھی ہوتی ہیں۔پس تم یاد رکھو کہ جس طرح دنیا کے تما م کاموں میں محنتیں اور متواتر محنتیں کرنی پڑتی ہیں اسی طرح دین کے کاموں میں بھی ہوتا ہے اور جس حد تک کوئی زیادہ محنت کرتا ہے اسی حد تک وہ زیادہ ثمرات حاصل کرتا ہے۔کوئی کہے کہ پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے جبکہ کامیابی انسان کی اپنی محنت اور کوشش پر ہے تو اس کو ہم بتاتے ہیں فرق یہ ہے کہ اگر ایک آدمی بٹالہ کی طرف جو سڑک جاتی ہے اس پر بٹالہ پہنچنے کے لئے چل پڑے تو خواہ وہ دو چار کو س چل کر تھک جائے پھر بھی پہنچ ہی جائے گا۔لیکن اگر کوئی دوسری طرف چل پڑے تو خواہ ساری عمر ہی چلتا رہے پھر بھی کبھی بٹالہ نہیں پہنچ سکے گا۔پس تم بھی اگر سیدھے راستہ پر جو کہ میں نے بتایا ہے چلو گے تو منزل مقصود تک پہنچو گے ورنہ نہیں پہنچ سکو گے۔نیت کئے بغیر کبھی تمہیں خدا نہیں ملے گا۔اور جو نیت کرلے گا اس کو رفتہ رفتہ مل ہی جائے گا۔اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ