انوارالعلوم (جلد 2) — Page 237
انوار العلوم جلد ۲ ۲۳۷ بركات خود است۔ دنیا کی جو چیزیں تمہیں پیاری لگتی ہیں ان کے مقابلہ میں تمہارے سامنے اللہ تعالی کی کیا شکل ہے۔ آیا بھوپال والا خدا تو نہیں ہے یا اس کے قریب قریب ہے۔ مگر خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی سب بد صورتیوں ، ساری بدیوں اور تمام برائیوں سے پاک اور منزہ ہے۔ یہ دیکھ کر رونا آتا ہے کہ مسلمان آدم علیہ السلام کا قصہ قرآن آدم علیہ السلام کا قصہ شریف میں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیوں اس نے شیطان کا کہا مان کر ایک دانہ کے لالچ سے ہمیں ہمیشہ کی رہنے والی جنت سے نکال دیا ۔ اگر ہم ہوتے تو کبھی شیطان کا کہنا نہ مانتے۔ مگر وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ آدم علیہ السلام کو ہی شیطان نے جنت سے نہیں نکالا بلکہ ہمیں بھی نکال رہا ہے ۔ وہ آدم علیہ السلام کے ایک دفعہ دھوکا کھانے پر دل ہی دل میں برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں ہر روز شیطان دھوکا دے رہا ہے اور ان کی بغل میں بیٹھا ہے۔ وہ یہ تو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے کیوں دھوکا کھایا مگر یہ نہیں جانتے۔ کہ شیطان ہمارے پاس ہی بیٹھا ہوا ہم سے بدکاریاں کرا رہا ہے ان کو چاہئے تھا۔ کہ بجائے آدم علیہ السلام پر اظہار افسوس اور رنج کرنے کے اپنے نفس پر کرتے ۔ آدم علیہ السلام لوگوں کو جنت سے کیا نکال سکتے تھے۔ ہر ایک انسان اپنے ہاتھ سے ہی جنت سے نکلتا ہے۔ آدم علیہ السلام کی وجہ سے کوئی جنت سے نہیں نکالا جاتا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ گناہ ہمیں آدم سے ورثہ میں ملا ہے اور اس کے سبب ہم جنت سے نکالے گئے ہیں۔ لیکن قرآن شریف میں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمِ (اتین (۵) ہم نے انسان کو اچھی سے اچھی حالت میں پیدا کیا ہے جب خدا نے انسان کو اچھی حالت میں پیدا کیا ہے ۔ تو پھر جنت سے وہ کسی کے گناہ کے بدلہ اسے کہاں نکالتا ہے۔ ہر ایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کا مکان جنت میں ہوتا ہے لیکن پھر وہ اپنے ہاتھ سے جنت کے گھر کو گرا کر دوزخ میں بناتا ہے۔ پس تم اپنے دلوں میں یہ خیال مت کرو کہ کوئی اور آدم تھا جس کو شیطان نے جنت سے نکالا تھا بلکہ تم ہی ہو جن کے پیچھے شیطان لگا رہتا ہے اور کئی لوگوں کو جنت سے نکال دیتا ہے۔ اگر کوئی شیطان کے قبضہ میں ہے تو وہ بھی اور اگر کوئی نہیں تو وہ بھی ہر وقت ہو شیار اور چوکس رہے تب ہی فائدہ ہو گا۔ اگر ایک مجلس بیٹھی ہوئی ہو اور انہیں ایک آدمی آکر کہے کہ تم میں سے ایک آدمی کو پھانسی دی جائے گی۔ پھر اگر وہ یہ سن کر سب کے سب وہاں بیٹھے رہیں اور ہر ایک یہ خیال کرے کہ مجھے نہیں کسی دوسرے کو پھانسی ملے گی تو ان میں سے ایک نہ ایک ضرور ملے گا۔ لیکن اگر سب کے سب اس جگہ سے چلے جائیں تو گویا ہر ایک کی جان بچ گئی کیونکہ کون بتا سکتا کہ