انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 233

انوار العلوم جلد ۲ ۲۳۳ برکات خلافت لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے وہ تو بہت ہی بڑا ہو گا۔ دوسرے دن جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو ہر ایک کھانے میں سے ایک ایک دو دو لقمہ کھا کر چھوڑ دیتے تا ایسا نہ ہو کہ مختلف کھانوں سے پیٹ بھر جائے اور اس لڈو کا مزا پورے طور پر نہ لے سکیں جب کھانے سے فارغ ہو چکے تو بھتیجوں نے کہا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کل تمہیں ایسا لڈو کھلائیں گے جسے ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے اب اپنا وعدہ پورا کیجئے اس نے کہا مجھے اپنا وعدہ یاد ہے اور یہ کہہ کر اسی طرح کا ایک لڈو جس طرح کے بازار میں بکتے ہیں نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس لڈو کو دیکھ کر لڑکوں کو سخت مایوسی ہوئی اور کہا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ایسا لڈو کھلائیں گے جو قریباً ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہو گا لیکن اب آپ نے ایک معمولی سالڈو سامنے رکھ دیا ہے یہ کیا بات ہے ۔ چچا نے کہا قلم لے کر لکھنا شروع کرو کہ اس لڈو کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہے ۔ میں ثابت کر دوں گا کہ واقع میں اس لڈو کو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے۔ دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا ہے اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئی ہیں ان کو حلوائی نے کئی آدمیوں سے خریدا۔ پھر ان میں سے ہر ایک چیز کو ہزاروں آدمیوں نے بنایا ہے۔ مثلاً شکر کو ہی لے لو اس کی تیاری پر کتنے ہزار آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے کوئی اس شکر کو ملنے والے ہیں، کوئی رس نکالنے والے کوئی نیشکر کھیت سے لانے والے ، پھر ہل جو تنے والے پانی دینے والے ، پھر بل میں جو لوہا اور لکڑی خرچ ہوا اس لوہے کے نکالنے صاف کرنے اور بنانے والے لکڑی کے کاٹنے اور گھڑنے والے۔ غرض اسی طرح سب آدمیوں کا حساب لگاؤں تو کس قدر بنتے ہیں۔ پھر شکر کے سوا اس میں آتا ہے اس کے بنانے والے جس قدر ہیں اس کا اندازہ لگاؤ اسی طرح اگر تم تمام چیزوں کے بنانے والوں کا شمار کرو تو کیا کئی لاکھ بنتے ہیں یا نہیں؟ بھیجوں نے یہ بات سن کر کہا ہاں ٹھیک ہے۔ پس آپ لوگ بھی خوب یاد رکھیں کہ کسی چیز کی اہمیت اس کے حجم یا قد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے انجام اور فوائد پر اہمیت کی بناء ہوتی ہے اور جو بات میں اس وقت بیان کروں گا وہ نہایت اہم ہے پس کوئی شخص اسے معمولی خیال نہ کرے اور ان بچوں کی طرح فور اما یوس نہ ہو جائے اور یہ نہ کہہ اٹھے کہ معمولی بات ہے گو وہ بات نظر میں چھوٹی معلوم ہو لیکن فی الحقیقت بہت بڑی ہے۔ اگر تم اس کو سیکھ لوگے اور اس پر عمل کرو گے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ ایسے انسان کو دین و دنیا میں معزز کر دے گا۔ اور مجھے اس وعدہ پر اتنا یقین ہے کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم اس پر عامل ہو گے تو ضرور تم سے وہ وعدہ پورا ہو گا۔