انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 120

۱۲۰ اس عظیم الشان پیشگوئی کو باوجو و علامات کے پورا ہونے کے غلط قرار دیکر اسلام کا انکار کیا جائے (نعوذ باللہ من ذلک) اور دشمنان اسلام کا حق ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کریں کہ اس صدی کا مجد وکونسا ہے اسے ہمارے سامنے پیش کرو کیونکہ تمہارے ساتھ وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر ہرآئیں گے اسی طرح وہ مسیح موعود کی بعثت کا بھی سوال کر سکتے ہیں کہ جو زمانہ بتایا گیا تھا اسے تو بتیس(۳۲) سال گزر چکے ہیں پھر وہ اب تک کیوں نہیں آیا۔جب کوئی شخص ایسامدعی نہیں کھڑا ہواتو اسلام کی صداقت میں شبہ لازم آتا ہے۔اسی طرح دشمنوں کا اعتراض ہو سکتا ہے کہ تم تو اسلام کو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور پسندید ہ مذہب کہتے ہو۔اگر تمهارا دعویٰ سچا ہوتا تو اب جبکہ اسلام پرایسا خطرناک وقت آیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس سے بدتر اور کوئی حالت ہے کہ وہ اسلام پر آسکتی ہے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے اس کی حقیقت کو ایسا مسخ کر دیا ہے کہ اصل اسلام کا کوئی پتہ ہی نہیں ملتا تو ضرور تھا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کوئی شخص ایساکھڑاکر تاجو اسلام کو پھراپنی اصلی شان و شوکت پر لاتا اور اس کی جڑوں کو مضبوط کرتا لیکن جبکہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی کوئی خبر نہیں لی اور اسے چھوڑ دیا ہے کہ وہ ذلیل ہو اور ہر طرح اسے کچلا جائے تو معلوم ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کا مذہب نہیں اس اعتراض کا جواب وہ لوگ کچھ بھی نہیں دے سکتے جو اس صدی کے سر پر کسی مجدد کے قائل نہیں یا جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات کو دیکھتے ہوئے پھر کسی مسیح کے ماننے کے لئے تیار نہیں مگر اللہ تعالی ٰکے فضل سے احمدی جماعت اس اعتراض کو فورا ًردکر سکتی ہے اورکہہ سکتی ہے کہ اللہ تعالی ٰکے فضل سے یہ صدی بھی مجدد سے خالی نہیں گئی اور اس زمانہ میں معمولی مجد د نہیں بلکہ مسیح موعود کو بھیج کر اللہ تعالی ٰنے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور اس کے ذریعہ سے اسلام کی عظمت کو قائم کیا ہے اور اسلام کو مصائب میں نہیں چھوڑا بلکہ ایسی دستگیری فرمائی ہے کہ دشمنوں کے گھروں میں ماتم پڑ گیا ہے۔میں جناب کے سامنے اس وقت تک اس بات کا ثبوت پیش کر چکا ہوں کہ اسلام کی حالت ایک مصلح کی طالب ہے اور اب مسلمانوں کی درستی اسی صورت میں ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی کھڑا کیا جائے جو اپنی قوت قدسیہ سے اصلاح کرے اور یہ کہ آنحضرت اﷺسے بھی یہ وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود مبعوث ہوں گے اور وہ زمانہ یہی ہے اور یہ کہ مجدد کی بعثت کا وقت صدی کا سر ہو تا ہے اور وہ گزر چکا ہے اور اس وقت مرزا صاحب قادیانی کے سوا اور کوئی شخص مدعی مسیحیت اور مہدویت نہیں ہے پس اگر آپ کا دعوی ٰنہ قبول کیا جائے تو خود