انوارالعلوم (جلد 2) — Page 121
۱۲۱ اسلام کی سچائی سے انکار کرنا پڑتا ہے کیونکہ عین ضرورت کے وقت اس وعدہ کا ایفاء نہیں ہواجو تیرہ سو سال پہلے کیا گیا تھا اور جسے اسلام کے قیام کا ایک بہت بڑانشان قرار دیا گیا تھا۔اس کے بعد میں دو اور شبہات کا ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود کیونکر ہو سکتے ہیں جبکہ مسیح کی نسبت عام طور پر مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے اور انہیں کے ذمہ اصلاح مفاسد ہے دوسرے یہ کہ مسیح موعود کی آمد کی بڑی علامت خروج دجال ہے جب تک دجال نہ نکلے مسیح موعوو کاظہور کیونکر ہو سکتا ہے۔پہلے سوال کے جواب میں یہ عرض ہے کہ قرآن شریف احادیث صحیحہ میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے ایک برگزیدہ نبی تھے اب تک زندہ ہیں اور وہی دوباره آئیں گے اصل بات یہ ہے کہ یہ عقیدہ ان مسیحی نو مسلموں کی وجہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا جو ابتدائے اسلام میں بڑی کثرت کے ساتھ مسلمانوں میں داخل ہوئے تھے چونکہ وہ مسیح علیہ السلام کو خدا کا فرزند مانتے تھے اور وہ عزت ان کے دلوں میں فوراً نہیں نکل سکتی تھی اس لئے وہ کچھ ایسے قصے اپنے ساتھ لے آئے جن سے یہ مسیح کی عظمت ظاہر ہو اور مسلمانوں نےسادہ لوحی سے بجاۓ ان کی اصلاح کے ان کے خیالات کو اخذ کر لیا اور ایک خطرناک غلطی میں مبتلاء ہو گئے ورنہ قرآن کریم تو جہاں ذکر کرتا ہے مسیح علیہ السلام کی وفات کا ہی ذکر کرتا ہے بلکہ اور انبیاء کی وفات پر اللہ تعالیٰ نے اس قدر زور نہیں دیا جس قدر مسیح علیہ السلام کی وفات پر زور دیا ہے اور مختلف پیرایوں میں آپ کی وفات کا ذکر کیا ہے اور اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ٰعلیم و خبیر ہے وہ جانتا تھا کہ کسی وقت یہ عقیدہ مسلمانوں کو خراب کرے گا چنانچہ فرمایا ہے یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ ( ال عمران :۵۶) اس آیت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کا یہ کہناکہ مسیح علیہ السلام آسمان پر تو جا بیٹھے ہیں لیکن ابھی تک تو متوفیک کاوعدہ پورا نہیں ہو ا جو رافعک سے پہلے مذکور ہے ایک ظلم عظیم ہے جس لفظ کو اللہ تعالی ٰپہلے رکھتا ہے کسی کا کیا حق ہے کہ اسے پیچھےکرے؟ قرآن کریم ایک قانون کی کتاب ہے اور اس کے احکام پر چلنا مسلمانوں کا فرض ہے اگر اس کے الفاظ کو آگے پیچھے کر کے معنے کرنے شروع کر دیئے جائیں تو جناب اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا اندھیر ا پڑ سکتا ہے کوئی دنیا کی حکومت اس بات کو روا نہیں رکھ سکتی کہ اس کے