انوارالعلوم (جلد 2) — Page 103
انوار العلوم جلد ۲ ۱۰۳ تحفة الملوك یہ کلمات اللہ تعالٰی کی صفت رحمانیت کے بھی جاذب ہیں۔ کے از یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت وہ ہے جس کے ماتحت بلا کسی محنت اور مشقت انسان پر انعام ہوتا ہے اور صفت رحیمیت وہ ہے جس کا نزول انسان پر کسی عمل کے بدلہ میں ہوتا ہے اور چونکہ انسان کے اعمال محدود ہوتے ہیں اس لئے اس کی جزاء بھی خواہ کس قدر ہی زیادہ ہو آخر محدود ہو گی جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال کے بدلہ میں دس گنے اور ستر گنے بلکہ سات سو گئے تک ثواب ملتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ لیکن پھر بھی یہ بدلہ ایک حد تک نسبت عمل کے لحاظ سے ہی ہوتا ہے مگر جو احسان کہ رحمانیت کے ماتحت ہوتا ہے وہ چونکہ کسی عمل کے بدلہ میں نہیں ہوتا اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی ۔ پس حبيبتانِ إلى الرحمن سے آنحضرت ﷺ نے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ دوسری عبادات کا بدلہ تو صفت رحیمیت دیتی ہے مگر یہ کلمات صفت رحمانیت کے جاذب ہو جاتے ہیں یعنی جب انسان اللہ تعالٰی کی تسبیح و تحمید کرتا اور اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہے تو نہ صرف رحیمیت جوش میں آتی ہے بلکہ صفت رحمانیت بھی جوش میں آکر اس پر نازل ہوتی ہے اور چونکہ یہ نزول رحمانیت نسبت عمل کے لحاظ سے نہیں بلکہ احسان کے طور پر ہوتا ہے اس لئے اعمال حسنہ کا ترازو بہت وزنی ہو جاتا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کا نزول جب صفت رحیمیت کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کی عظمت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وَإِذَا حُتِيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِاحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا (النساء : ۸۷) جب تمہاری نسبت کوئی کلمہ نیک استعمال کیا جائے تو تم کو بھی چاہئے کہ اس کے قائل کی نسبت اس سے بہتر کلمہ نیک یا کم سے کم وہی کلمہ استعمال کرو جیسا کہ السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام - تو کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو غیر محدود خزانوں والا ہے اور بہتر سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اپنے بندوں سے اس طرح معاملہ نہ کرے وہ کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب میرا بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں دو قدم آتا ہوں جب وہ تیز چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں پس اس اصل کے ماتحت جب ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی نسبت کہتا ہے کہ الہی آپ پاک ہیں تو اللہ تعالی ایک تو اسے اس کی اس عبادت کا بدلہ دیتا ہے دوسرے اس کی نسبت بھی پاکیزگی کا حکم فرماتا ہے کہ حَبُّوْا بِاحْسَنَ مِنْهَا ا أَوْرُ رُدُّوهَا دو پس جب اللہ تعالی کسی بندہ کی نسبت فرمائے گا تو پاک ہو تو پھر اس کے گناہ کہاں باقی رہ سکتے ہیں اس