انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 94

انوار العلوم جلد ؟ ۹۴ تحفة الملوك اسلام نے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے ۔ اسلام اس عقیدہ کا سخت دشمن ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں نہیں داخل ہو سکتے اور یہ کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ سے گزرنا بہت آسان ہے اس سے کہ کوئی دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو بلکہ اسلام تو غریب و امیر کا مذہب ہے اور کسی خاص فرقہ سے متعلق نہیں ۔ زکوۃ کے احکام بتا رہے ہیں کہ اسلام روپیہ جمع کرنے سے بھی منع نہیں کرتا اور اپنی دولت لٹا کر اس میں داخل ہونے کا طالب نہیں اور یہ نہیں کہتا کہ تو کل کی فکر آج نہ کر بلکہ قرآن کریم کا تو حکم ہے کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) انسان کو کل کی فکر آج کرنی چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ میں نے کل کے لئے آج کیا سامان کئے ہیں۔ ہاں اسلام ہر قسم کے وہموں اور دور از کار خیالوں سے بھی روکتا ہے کیونکہ وہ انسانی ترقیات کے راستہ میں روک ہوتے ہیں! اور قبل از وقت روح انسانی کو گھن ہو کر لگ جاتے ہیں۔ غرض که اسلام دنیاوی ترقیات سے روکتا نہیں بلکہ ان کی طرف رغبت دلاتا ہے مگر باوجو د اس کے یہ کہنا ایک ظلم عظیم ہو گا کہ اسلام کی غرض دنیاوی ترقیات تھی کیونکہ یہ مقصد تو بغیر کسی مذہب کے بھی حاصل ہے اگر اسلام نہ آتا تو کیا لوگ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوتے بلکہ قرآن کریم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تمام تر توجہات دنیا کے حصول کی طرف ہی لگی ہوئی تھیں جیسا کہ فرمایا الَّذِينَ ضَلَّ سَعِيهُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ( کمت : ۱۰۵) یا فرمایا ہے كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ (القيامة : ۲۲۲۱) یا فرمایا ہے کہ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا والآخرة خير وابقى (الاعلی: ۱۷-۱۸) اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ انسان عام طور پر بھیجی صفات کی طرف خود بخود مائل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان میں جو بھی خواہشات ہیں وہ اپنے اندر ایک نہایت عاجلانہ لطف رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جسمانی آرام کی خاطر بہت سا وقت خرچ کر دیتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں جو کھانے پینے یا پہننے کے آرام کی فکر میں ہی اپنی ساری عمر صرف کر دیتے ہیں اور ان کی رات دن کی محنتیں اور کوششیں صرف ان کے بہیمی جذبات کو پورا کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور چونکہ ان جذبات کا پورا کرنا زیادہ تر دنیا کے اموال وامتعہ کے حصول پر مبنی ہے اس لئے لوگ دنیا کی طرف بہت متوجہ ہوتے ہیں اور جسقد ر حق سے دور ہوں اور معرفت الہی سے خالی ہوں اس قدر دنیا کے کمانے میں منہمک اور مشغول ہوتے ہیں کیونکہ اس کے کمانے میں ان کے بہیمانہ جذبات کے پورا