انوارالعلوم (جلد 2) — Page 35
۳۵۔کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے کیونکہ الکتاب کے معنی قرآن شریف ہیں اور الحکمة کے معنی بعض آئمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔اس طرح یعلمھم الکتاب والحکمة کے معنی ہوئے قرآن و حدیث سکھائے عام ترجمہ ہے یتلوا علیھم ایاتک کا۔کیونکہ تبلیغ کے لئے علم کی ضرورت ہے۔متقی اور باعمل ہونا اور ہر دلعزیز ہونا یہ یزکیھم کے لئے ضروری ہے کیونکہ جو متقی ہے وہی تزکیہ کر سکتا ہے اور جو خود عمل نہ کرے گا اس کی بات پر اور لوگ عمل نہیں کر سکتے۔اسی طرح جو قوم کا مزکی ہوگا وہ ہر دلعزیز بھی ضرور ہوگا۔پھر کہو کہ وصیت میں ایک اور بات بھی ہے کہ درگزر سے کام لے۔میں کہتا ہوں اس کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔انک انت العزیز الحکیماللہ تعالیٰ جو العزیزہے اُس کو بھی معزز کرے گا اور غلبہ دے گا۔جس کا لازمی نتیجہ درگزر ہوگا کیونکہ یہ ایک طاقت کو چاہتا ہے طاقت ملے تو درگزر کرے۔پس اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کا ذکر کرنے کے یہی معنی ہیں۔پھر یہ بتایا کہ درگزر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ لغو نہیں بلکہ الحکیم کے خیال کے نیچے ہوگا۔پس یاد رکھو کہ حضرت خلیفۃ المسیح (خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل اُن پر ہوں) کی وصیت بھی اسی آیت کی تشریح ہے۔اب جب کہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خود حضرت خلیفۃ المسیح نے خلیفہ کے کام پہلے سے بتا دیئے تو اب جدید شرائط کا کسی کو کیا حق ہے۔گورنمنٹ کی شرائط کے بعد کسی اور کوکوئی حق نہیں ہوتا کہ اپنی خود ساختہ باتیں پیش کرے۔خلیفہ تو خداوند مقرر کرتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم شرائط پیش کرو۔خدا سے ڈرو اور ایسی باتوں سے توبہ کرو یہ ادب سے دور ہیں۔خدا تعالیٰ نے خود خلیفہ کے کام مقرر کر دیئے ہیں اب کوئی نہیں جو ان میں تبدیلی کر سکے یا ان کے خلاف کچھ اور کہہ سکے۔پھر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح (خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں اُن پر ہوں) نے بھی وہی باتیں پیش کیں جو اس آیت میں خدا نے بیان کی تھیں گویا ان کی وصیت اس آیت کا ترجمہ ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ اور تشریح کروں۔تبلیغپہلافرض خلیفہ کاتبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے۔میں جب دیکھتا